اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 284

جذبات تو شاید پیدا نہ ہوں لیکن ان کے ہاں غیر متوازن نظریات کا پایا جانا کسی حد تک قابل فہم ہے، مگر جب اس قسم کی خام اور طفلانہ حرکات کا مظاہرہ ان سیکولر ممالک میں بھی کیا جائے جو بزعم خود روشن خیال اور ترقی یافتہ کہلاتے ہیں تو یقین نہیں آتا۔بد قسمتی سے بنی نوع انسان کے سیاسی طرز عمل میں صرف یہی ایک بات نہیں جسے سمجھنا مشکل ہے حقیقت یہ ہے کہ جب تک سیاست اسی طرح قومی مفادات کی اسیر رہے گی اور اس کی سوچ قومیت کے تنگ دائرہ سے باہر نہیں نکلے گی اس وقت تک سیاست میں اصول نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہو گی۔جب تک قومی تعصبات سیاسی فکر پر حاوی رہیں گے اور جب تک قومی مفاد سے تصادم کی صورت میں سچائی ، دیانت اور عدل و انصاف کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا اور حب الوطنی کی یہی تعریف کی جاتی رہے گی انسانی سیاست اسی طرح مشکوک ، متناقض اور متنازعہ رہے گی۔قرآن کریم حکومت اور عوام کی جو ذمہ داریاں بیان فرماتا ہے ان میں سے بعض کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے مثلاً خوراک، لباس، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ، عالمی امداد کے اصول، حکومت اور عوام کے احتساب کا طریق کار، حکومت اور عوام کس طرح ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ حقیقی انصاف کیا ہے؟ عوام کی تکالیف کا خود احساس کرنا تا کہ انہیں اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی کوئی ضرورت نہ رہے۔یہ سب امور پہلے بیان ہو چکے ہیں۔اسلامی نظام میں حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے مسائل سے باخبر رہے اور انہیں اپنے حقوق کے حصول کے لئے ہڑتالوں کی ضرورت نہ پیش آئے۔آجر اور اجیر کے جھگڑے نہ ہوں اور نہ ہی مظاہروں اور توڑ پھوڑ کی نوبت آئے۔قرآن کریم نے ان سب کے علاوہ بعض اور ذمہ داریاں بھی بیان فرمائی ہیں جن کا اب ہم مختصر ذکر کرتے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے: 284