اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 17

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا (النساء آیت ۴۲) ترجمہ۔پس کیا حال ہوگا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ لیکر آئیں گے۔اور ہم تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔پس اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ امر بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر زمانہ اور ہر قوم میں رسول آئے اور وہ سب کے سب انسان تھے۔آئیے اب ہم قرآن مجید کی رو سے رسول مقبول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور مرتبہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔چنانچہ بانی اسلام حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرآن کریم کا سب سے زیادہ قابل توجہ نمایاں اور ناقابل تردید دعوئی درج ذیل آیت میں کیا گیا ہے۔یہ ایک بہت معروف آیت ہے جو اکثر زیر بحث آتی رہتی ہے۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ ، وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (سورۃ الاحزاب آیت ۴۱) ترجمہ - محمدؐ تمہارے (جیسے ) مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کا رسول ہے اور سب نبیوں کا خاتم ہے۔اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔اس آیت میں عربی لفظ خاتم بہت سے معانی رکھتا ہے تاہم خاتم النَّبِيِّنَ کے لقب کے بنیادی معنی بلاشبہ بہترین ، سب سے افضل، سب سے بڑھ کر صاحب اختیار، سب پر حاوی اور دوسروں کی تصدیق کرنے والا ہیں۔(حوالہ کے لئے دیکھیں۔لین، اقرب الموارد، مفردات امام راغب، زرقانی) حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت کا ذکر ایک اور آیت میں بھی کیا 17