اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 277
متعلق تعلیم اور اس کی دی ہوئی دینی تعلیم میں کوئی باہمی تضاد نہیں ہے اگر چہ یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ مذہب اور مملکت کے مابین کوئی بھی ایسی مشتر کہ سرزمین نہیں ہے جہاں دونوں کا عمل دخل ہو۔بلاشبہ کئی ایسے مقامات ہیں جہاں بیک وقت دونوں اپنا عمل دخل رکھتے ہیں لیکن یہ عمل باہمی تعاون کی روح کے ساتھ ہے نہ کہ کسی ایک کی اجارہ داری کے قیام کے لئے۔چنانچہ مذہب کی عطا کردہ اخلاقی تعلیم مختلف ممالک میں ہونے والی قانون سازی کا ضروری حصہ بن جاتی ہے کسی ملک میں کم اور کسی ملک میں زیادہ۔ملکی قوانین میں جرائم کی مجوزہ سزاؤں کے پس منظر میں مذہب کی پسند یا نا پسند بہر حال موجود ہے۔اس کے باوجود جہاں تک مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کا تعلق ہے وہ اپنے ملک کے بعض سیکولر قوانین سے اختلاف کے باوجود شاذ و نادر ہی کسی آئینی حکومت کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کیا کرتے ہیں۔اور یہ مسلمانوں اور عیسائیوں پر ہی موقوف نہیں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا بھی یہی طریق ہے۔اس میں کیا شک ہے کہ منوسمرتی (Manusmarti) میں درج ہند و قوانین ہندوستان کی سیاسی حکومتوں کے بنائے ہوئے سیکولر قوانین سے بالکل مختلف ہیں لیکن وہاں کے ہند و کسی نہ کسی طرح حالات سے سمجھوتہ کر کے زندگی گزار رہے ہیں۔اگر مختلف ممالک کے لوگ مذہبی قوانین کی حمایت میں رائج الوقت سیاسی نظام کے مقابل پر کھڑے ہو جا ئیں تو یقیناً خون کی ندیاں بہہ جائیں مگر بنی نوع انسان کی خوش قسمتی ہے کہ ایسا ہوتا نہیں۔جہاں تک اسلام کا تعلق ہے مذہب اور مملکت کے مابین کوئی محاذ آرائی نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ہر حالت میں کامل انصاف پر سختی سے کار بند رہنے کا اٹل اور غیر مبدل اصول پیش فرماتا ہے۔ہر اس حکومت کے لئے جو اسلامی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے یہ اصول ایک بنیادی اور مرکزی لائحہ عمل کی حیثیت 277