اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 265
جاگیردارانہ نظام کبھی درست اور بجا ہیں بشرطیکہ ایسا نظام ایک اچھی روایت اور ورثہ کے طور پر عوام کو بھی قابل قبول ہوتا ہم معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے جمہوریت کو باقی سب نظاموں پر ترجیح دی ہے اور مسلمانوں کو جمہوری نظام اپنانے کی تلقین کی ہے اگر چہ قرآن کریم میں جمہوریت کا تصور وہ نہیں ہے جو مغربی طرز جمہوریت میں ہمیں دکھائی دیتا ہے۔قرآن کریم نے کہیں بھی جمہوریت کی کھوکھلی اور سطحی تعریف پیش نہیں کی۔قرآن کریم صرف غایت درجہ کے اہم اور بنیادی اصول بیان فرماتا ہے اور باقی تفاصیل خود عوام کی مرضی پر چھوڑ دیتا ہے۔اب اگر کوئی قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرے گا تو وہ فائدہ اٹھائے گا اور اگر وہ صحیح راستہ کو چھوڑے گا تو ہلاک ہوگا۔اسلامی جمہوریت کے دو ستون جمہوریت کے اسلامی تصور کے دو بنیادی ستون ہیں۔۱- انتخابات کا جمہوری عمل کلیۂ دیانت داری پر مبنی ہونا چاہئے۔اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ووٹ کا حق استعمال کرتے وقت ہمیشہ یہ احساس رہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔پس جہاں ہم اپنے فیصلہ کے ذمہ دار ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی جوابدہ ہیں اس لئے ووٹ اس کو دیا جائے گا جو اس قومی ذمہ داری کو ادا کرنے کا نہ صرف سب سے زیادہ اہل ہو بلکہ خود بھی دیانت دار ہو۔اس تعلیم میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ ووٹ ڈالنے کا حق رکھنے والے سب لوگ اپنے اس حق کو ضرور استعمال کریں سوائے اس کے کہ وہ حالات کے آگے بے بس ہوں یا اس حق کے استعمال میں کوئی اور رکاوٹ حائل ہو۔۲۔حکومتوں کو کامل انصاف کے اصول پر کام کرنا چاہئے۔اسلامی جمہوریت کا دوسرا ستون یہ ہے کہ فیصلے کرتے ہوئے کامل انصاف کو اپنا یا جائے۔انصاف سے 265