اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 260

اسی طرح فتوحات کے ذریعہ نئی سلطنتوں کے قیام یا ان کی توسیع کو بالعموم اچھا نہیں سمجھا گیا۔اس بات کا ذکر ملکہ سبا سے متعلق قرآنی آیات میں ملتا ہے۔ملکہ سبا نے اپنے مشیروں کو نصیحت کرتے ہوئے جو بات کی اسے قرآن کریم نے یوں بیان فرمایا ہے۔قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةٌ وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ (سورۃ النمل آیت ۳۵) ترجمہ:۔اس نے کہا یقیناً جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس میں فساد برپا کر دیتے ہیں اور اس کے باشندوں میں سے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور وہ اسی طرح کیا کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بادشاہ اچھے بھی ہو سکتے ہیں اور بُرے بھی بالکل اسطرح جیسے جمہوری طریق پر منتخب کردہ وزیر یا صدر اچھے یا بُرے ہو سکتے ہیں لیکن قرآن کریم نے بادشاہوں کی ایک ایسی قسم کا ذکر بھی کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ تھے مثلاً حضرت سلیمان کا شمار ایسے ہی بادشاہوں میں ہوتا ہے۔یہود اور نصاری تو حضرت سلیمان کو ایک بادشاہ ہی سمجھتے ہیں لیکن قرآن کریم کے نزدیک وہ صرف بادشاہ ہی نہیں اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی بھی تھے۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ ایک ہی شخص کو بیک وقت نبوت اور بادشاہت کے منصب پر سرفراز فرما دیتا ہے۔ایسے لوگ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہوتے ہیں۔نبوت کے ذریعہ حاصل ہونے والی حکومت کی ایک اور قسم کا ذکر بھی قرآن کریم میں ہمیں ملتا ہے۔مندرجہ ذیل آیت اس کی وضاحت کرتی ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ 260