اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 252 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 252

ہے اس کے نتیجہ میں غریب اقوام میں زندگی کی آخری رمق بھی مٹتی جا رہی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ خود ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کا ذہنی سکون بھی اٹھ رہا ہے اور وہ قناعت کی دولت سے محروم ہو رہے ہیں۔تمام معاشرہ مصنوعی طور پر پیدا کی ہوئی ضروریات کی تکمیل کے لئے سرگرداں ہے۔ہر شخص هَلْ مِن مزید کی کیفیت میں مبتلا ہے ہر کوئی دوسرے سے آگے نکلنا چاہتا ہے۔یہی وہ صورت حال ہے جو بالآخر قوموں کو جنگ کی طرف لے جاتی ہے اور یہی وہ رجحان ہے جس کو اسلام نے بڑی سختی سے روکا ہے۔اسلام ایک ایسے معاشرہ کی تصویر پیش کرتا ہے جس میں لوگ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے زندگی گزارتے ہوں اور آنے والے کسی مشکل وقت کے لئے کچھ بچا کر رکھتے ہوں اور یہ طرز زندگی صرف فرد یا خاندان تک محدود نہ ہو بلکہ قومی سطح پر بھی اسے اختیار کیا گیا ہو۔غریب ممالک کے لئے ایسی صورت حال میں بہت سے خطرات مضمر ہیں۔جسکی وجہ یہ ہے کہ جب نئی ابھرنے والی معیشت کی طرف سے مقابلہ کے نئے چیلنج پیدا ہوتے ہیں تو ترقی یافتہ ممالک مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی معیشت کا پہیہ رک جاتا ہے۔نتیجہ ایسے ملک تیسری دنیا کے ملکوں یا دیگر غریب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں اور بھی زیادہ بے حسی اور بے رحمی کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں اور ایسا ہونا ناگزیر ہے کیونکہ ان ممالک کی حکومتوں نے اپنے عوام کا معیار زندگی اس حد تک بہر حال قائم رکھنا ہے جس کے وہ عادی ہو چکے ہیں۔بالآخر یہ صورت حال بد سے بدتر ہوتی چلی جاتی ہے اور ایسے عوامل کو جنم دیتی ہے جو جنگوں پر منتج ہوتے ہیں اور اسلام انسانیت کو جنگوں سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔252