اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 241

وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٍ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ( سورة المعارج آیات ۲۵-۲۶) ترجمہ:۔اور وہ لوگ جن کے اموال میں ایک معین حق ہے مانگنے والے کے لئے اور محروم کے لئے۔ان آیات میں امراء مخاطب ہیں۔انہیں یاد دلایا گیا ہے کہ ان کی دولت کا یقیناً ایک حصہ ایسا ہے جو دراصل فقراء اور غرباء کا ہے اور وہی اس کے حقدار ہیں۔یہ اندازہ کیسے کیا جائے کہ چند امیر لوگوں نے غرباء کے حقوق پر قبضہ کر لیا ہوا ہے جس کے نتیجہ میں معاشرہ عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے۔اس صورت حال کو جانچنے کا پیمانہ وہ حقوق ہیں جن کی اسلام ضمانت دیتا ہے۔اسلامی تعلیم کے مطابق انسان کی چار بنیادی ضروریات زندگی ہیں جو بہر حال پوری ہونی چاہئیں۔قرآن کریم فرماتا ہے۔إِنَّ لَكَ اَلا تَجُوْعَ فِيهَا وَلَا تَعرى وَأَنَّكَ لَا تَظْلَمُوا فِيهَا وَلَا تَضْحى (سورۃ طہ آیات ۱۱۹۔۱۲۰) ترجمہ:۔تیرے لئے مقدر ہے کہ نہ تو اس میں بھوکا رہے اور نہ نگا۔اور یہ ( بھی ) کہ نہ تو اس میں پیاسا رہے اور نہ دھوپ میں جلے۔پس اسلام نے ان چار نکات پر مشتمل ایک ایسا چارٹر دیا ہے جس میں بنیادی ضروریات زندگی کے تعین اور تعریف کے بعد ان کو کم سے کم حقوق کے طور پر شرعاً قائم فرما دیا گیا ہے۔اور یہ وہ حقوق ہیں جن کو پورا کرنا حکومت کا فرض قرار دیا گیا ہے۔یعنی: (۱) خوراک (۲) لباس (۳) پانی (۴) رہائش دوسرے ممالک کا تو کیا ذکر خود برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بھی لاکھوں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس سر چھپانے کے لئے بھی جگہ نہیں ہے بلکہ ایسے 241