اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 240

سا احساس ہونے لگتا ہے۔مانا کہ اس قسم کی عظیم انسانی اقدار کے علمبردار اور ایسے اعلیٰ درجہ کے تہذیب یافتہ لوگ بہت کم ہوا کرتے ہیں لیکن اس تعلیم کے نفاذ سے معاشرہ میں دوسروں کی بھلائی کا مجموعی شعور اور احساس اتنا بڑھ جاتا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں رہتا کہ انسان کو صرف اپنی ضروریات اور عیش وعشرت کی پڑی رہے اور معاشرہ کے کم نصیب لوگوں کی حالت زار کی طرف توجہ ہی نہ کی جائے۔اسلام کی تعلیم مطالبہ کرتی ہے کہ زندگی سے لوگوں کا تعلق محض اپنی ذات کی حد تک ہی محدود نہ رہے بلکہ انہیں گردو پیش کے حالات سے باخبر رہتے ہوئے زندگی گزارنے کا ڈھب بھی آ جائے اور وہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھ سکیں جب تک لوگوں کے دکھ درد کم کرنے اور ان کے معیار زندگی کو کسی قدر بہتر بنانے کے لئے کچھ کام نہ کر لیں۔مومنین کے ایسے معاشرہ کی خصوصیات قرآن کریم کی ایک ابتدائی آیت میں بیان ہوئی ہیں جس کا اس خطاب میں پہلے بھی حوالہ دیا جا چکا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ت ٥٠٠اوہ وہ وہ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَO ( سورة البقرة آیت ۴) ترجمہ۔اور جو کچھ ہم انہیں رزق دیتے ہیں اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔بنیادی ضروریات زندگی معاشرتی اور اقتصادی امن کے ضمن میں بتایا جا چکا ہے کہ غرباء اور ضرورتمندوں کو صدقات دینے کے تصور کو اسلام نے کس طرح یکسر تبدیل کر دیا ہے۔قومی اموال میں جہاں تک افراد کے حقوق کا سوال ہے قرآن کریم نے اس سلسلہ میں ایک کسوٹی بیان کی ہے جس کے ذریعہ ہم یہ پرکھ سکتے ہیں کہ کتنی دولت عام آدمی کو ملنی چاہئے تھی جو چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں اکٹھی ہو گئی ہے۔240