اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 239
گواہوں کی موجودگی میں کی جائے۔نیز خریدار کو لاعلمی میں نہ رکھا جائے۔اسے پوری طرح باخبر کر دیا جائے کہ وہ کیا خرید رہا ہے۔( صحیح مسلم) مختصر یہ کہ اسلام کی کوشش اور حکمت عملی یہ ہے کہ امیر اور غریب کے مابین فاصلہ کو کم کیا جائے۔چنانچہ اس کے لئے وہ مندرجہ ذیل اقدامات کرتا ہے۔ا۔بعض چیزوں کی سرے سے ممانعت کر دی گئی ہے۔مثلاً شراب نوشی اور جوا وغیرہ جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔۲۔سود کے ذریعہ دولت کے انبار لگانے سے منع کر دیا گیا ہے۔۳۔نجی کاروبار کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔۴۔دولت کی گردش کو تیز کر دیا گیا ہے۔۵۔غریبانہ اور سادہ طرز زندگی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور اس کے لئے بار بار تلقین اور نصیحت کی گئی ہے۔انسان کی طبعی شرافت سے یہ توقع رکھی گئی ہے کہ وہ با وجود صاحب حیثیت ہونے کے اپنی زندگی کے انداز کو اتنا سادہ اور معیار کو اس سطح پر رکھے گا جو غرباء کی پہنچ سے اس قدر دور نہ ہو کہ وہ اس کا خواب بھی نہ دیکھ سکیں۔اس تمام تر تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ دل میں دوسروں کے جذبات کا احساس اور احترام پیدا ہو اور اگر کہیں بہیمیت اور دوسروں پر ظلم کرنے کا رجحان پایا جائے تو اس کا گلا گھونٹ دیا جائے۔اس تعلیم میں جھوٹے تکبر، منافقت، سطحیت ، دنیا پرستی، فخر و مباہات اور دوسروں کو کم تر سمجھنے اور اس قسم کی دیگر برائیوں کے خلاف حقیقی معنوں میں ایک مقدس جنگ اور جہاد کا اعلان کیا گیا ہے اور انسان کے اندر جو تہذیب، شائستگی اور شرافت ہے اسے ابھارا گیا ہے اور دوسروں کی تکالیف کا احساس دلایا گیا ہے۔عموں اور دکھوں کے مارے ہوئے ان لوگوں کو دیکھ کر جو بمشکل اپنا پیٹ بھر سکتے ہیں انسان کو بعض اوقات عیش وعشرت کی زندگی گزارتے ہوئے جرم کا 239