اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 237
مؤثر ہیں۔صرف بیٹے کا وارث ہونا، جائیداد کی کسی کے حق میں بھی وصیت نہ کرنا یا موصی کے اختیارات کا لامحدود ہونا کہ وہ اپنی مرضی سے جو چاہے کرئے ان سب باتوں کی اسلامی قانونِ وراثت میں ممانعت کر دی گئی ہے۔اسی طرح منقولہ اور غیر منقولہ دونوں قسم کی جائیداد نسلاً بعد نسل تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک که صرف تین چار نسلوں ہی میں بہت بڑی بڑی جائیدادیں بھی تقسیم کے بعد سکٹر کر رہ جاتی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زمین کی ملکیت بٹ جانے سے ہر قسم کی اجارہ داری ختم ہو جاتی ہے اور معاشرہ دائمی طبقاتی تقسیم کا شکار نہیں ہونے پاتا۔رشوت کی ممانعت وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (سورة البقرة آیت ۱۸۹) ترجمہ :۔اور اپنے ہی اموال اپنے درمیان جھوٹ فریب کے ذریعہ نہ کھایا کرو۔اور نہ تم انہیں حکام کے سامنے (اس غرض سے ) پیش کرو کہ تم گناہ کے ذریعہ لوگوں کے (یعنی قومی ) اموال میں سے کچھ کھا سکو حالانکہ تم (اچھی طرح) جانتے ہو۔مضمون کے اس پہلو کو فی الحال مجھے چھوڑنا پڑے گا تاہم یہ پہلو جو بد عنوانی اور رشوت وغیرہ کی شکل میں خاص طور پر تیسری دنیا کے ممالک میں نظر آتا ہے انفرادی امن کے ذکر میں دوبارہ زیر بحث آئے گا۔تجارتی ضابطہ اخلاق اسلام نہ تو سرمایہ دارانہ نظام کو کلیتہ رد کرتا ہے اور نہ سائینٹیفک سوشلزم کو بالکل 237