اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 233
انسان پریشان ہو کر رہ جاتا ہے اس لئے ان آیات کے متعلق مندرجہ ذیل نکات ضرور پیش نظر رہنے چاہئیں۔ا۔ان آیات میں مذکور دونوں عورتوں کو گواہی دینے کے لئے نہیں کہا گیا۔۲۔دوسری عورت کا کردار واضح طور پر معین اور محدود کر دیا گیا ہے۔اس کی حیثیت محض ایک مددگار کی ہے۔۳۔اگر دوسری عورت جو گواہی نہیں دے رہی پہلی عورت کی گواہی میں کوئی ایسی بات دیکھتی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ گواہی دینے والی خاتون نے سودہ اور معاہدہ کی روح کو پوری طرح نہیں سمجھا تو وہ اس پر دوبارہ غور کرنے میں اس کی مدد کر سکتی ہے یا اسے کوئی بھولی ہوئی بات یاد دلا سکتی ہے۔۴۔گواہی دینے والی عورت کو پورا اختیار دیا گیا ہے کہ اس کی اپنی گواہی بہر حال ایک الگ آزاد حیثیت رکھے گی اور اگر وہ اپنی ساتھی سے متفق نہ ہو تو پھر اس کا اپنا بیان ہی آخری اور حتمی متصور ہوگا۔اس ضمنی بحث کے بعد اب ہم پھر اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔معاہدات کے سلسلہ میں اسلام کچھ پابندیاں عائد کرتا ہے۔مثال کے طور پر مالی لین دین کے متعلق معاہدات کے لئے ضروری ہے کہ طے شدہ شرائط کو گواہوں کی موجودگی میں ضبط تحریر میں لایا جائے۔ان شرائط کو قرض دار یا مشتری لکھوائے اور طرفین اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر معاہدہ کو لفظاً ومعناً دیانتداری اور پوری شرائط کے ساتھ نباہنے کی کوشش کریں۔ظاہر ہے کہ ایسے نظام معیشت میں جہاں قرضہ حسنہ کا رواج ہو وہاں سود پر لئے گئے غیر ضروری قرضوں اور ادھار کی بھر مار نہیں ہوگی اور قرض دینے والا خواہ مخواہ لوگوں کو ادھار نہیں دے گا۔اس کے نتیجہ میں فاضل سرمایہ کا سیلاب نہیں آئے گا اور معاشرہ کی قوت خرید اپنی حقیقی وسعت اور اصل حدود 233