اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 232
ہو جسے تم (اسی وقت ) آپس میں لے دے لیتے ہو۔اس صورت میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اسے نہ لکھو۔اور جب تم کوئی (لمبی) خرید و فروخت کرو تو گواہ ٹھہرا لیا کرو۔اور لکھنے والے کو اور گواہ کو (کسی قسم کی کوئی ) تکلیف نہ پہنچائی جائے۔اگر تم نے ایسا کیا تو یقیناً یہ تمہارے لئے بڑے گناہ کی بات ہوگی۔اور اللہ سے ڈرو جب کہ اللہ ہی تمہیں تعلیم دیتا ہے۔اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔اور اگر تم سفر پر ہو اور تمہیں کا تب میسر نہ آئے تو کوئی چیز با قبضہ رہن کے طور پر ہی سہی۔پس اگر تم میں سے کوئی کسی دوسرے کے پاس امانت رکھے تو جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے اسے چاہئے کہ وہ ضرور اس کی امانت واپس کرے اور اللہ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرے۔اور تم گواہی کو نہ چھپاؤ۔اور جو کوئی بھی اسے چھپائے گا تو یقیناً اس کا دل گہنگار ہو جائے گا۔اور اللہ اسے جو تم کرتے ہو خوب جانتا ہے۔یہاں اس امر کا ذکر بے حد ضروری ہے کہ ازمنہ وسطی کی سوچ رکھنے والے علماء نے ان آیات کو ان کے سیاق و سباق سے ہٹ کر کلیہ غلط معنوں میں استعمال کیا ہے۔وہ اس بات پر مصر ہیں کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق ایک عورت کی گواہی کافی نہیں ہے۔ان کا موقف یہ ہے کہ ایک مرد کی گواہی کے مقابل ہر قانونی ضرورت کے لئے دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔انہوں نے آیات کے بالکل غلط معنی کرتے ہوئے اسلامی فقہ میں مرد اور عورت کی گواہی کے بارہ میں غلط تصور پیش کیا ہے۔ان کا خیال یہ ہے کہ جب قرآن کریم ایک مرد کو بطور گواہ طلب کرتا ہے تو اس کا متبادل دو عورتوں کی گواہی ہوگی اور جہاں چار مرد گواہ چاہئیں وہاں گواہی دینے کے لئے آٹھ عورتوں کی ضرورت ہو گی۔یہ تصویر غیر حقیقی اور قرآنی تعلیمات سے بہت دور ہے۔نظام عدل کے اس مسئلہ پر از منہ وسطی کا سا تنگ نظر موقف دیکھ کر تو 232