اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 231

فُسُوقٌ بِكُمْ ، وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِمُكُمُ اللهُ ، وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۚ وَإِنْ يْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبافَرِهن " مَقْبُوضَةٌ ، فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا هو فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَه وَلْيَتَّقِ اللهَ رَبَّهُ ، وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ، وَمَنْ تكْتُمْهَا فَإِنَّه، ايم " قَلبه ، وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ 280- ( سورة البقرة آیات ۲۸۳ - ۲۸۴ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم ایک معین مدت تک کے لئے قرض کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔اور چاہئے کہ تمہارے درمیان لکھنے والا انصاف سے لکھے۔اور کوئی کا تب اس سے انکار نہ کرے کہ وہ لکھے۔پس وہ لکھے جیسا اللہ نے اسے سکھایا ہے۔اور وہ لکھوائے جس کے ذمہ ( دوسرے کا ) حق ہے اور اللہ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرے اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرے۔پس اگر وہ جس کے ذمہ ( دوسرے کا ) حق ہے بیوقوف ہو یا کمزور ہو یا استطاعت نہ رکھتا ہو کہ وہ لکھوائے تو اس کا ولی (اس کی نمائندگی میں) انصاف سے لکھوائے۔اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ ٹھہرا لیا کرو۔اور اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں (ایسے) گواہوں میں سے جن پر تم راضی ہو۔( یہ ) اس لئے (ہے) کہ ان دو عورتوں میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد کروا دے۔اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔اور (لین دین ) خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اسے اس کی مقررہ میعاد تک ( یعنی مکمل معاہدہ) لکھنے سے اکتاؤ نہیں۔تمہارا یہ طرز عمل اللہ کے نزدیک بہت منصفانہ ٹھہرے گا اور شہادت کو قائم کرنے کے لئے بہت مضبوط اقدام ہو گا اور اس بات کے زیادہ قریب ہو گا کہ تم شکوک میں مبتلا نہ ہو۔( لکھنا فرض ہے ) سوائے اس کے کہ وہ دست بدست تجارت 231