اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 223
اصل زر تمہارے ہی رہیں گے۔نہ تم ظلم کرو گے نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔اور اگر کوئی تنگ دست ہو تو (اسے) آسائش تک مہلت دینی چاہئے اور اگر تم خیرات کر دو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔مذکورہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انتباہ کیا گیا ہے اس کا مطلب ہے ہے کہ سرمایہ دارانہ معاشرہ کو ان قوانین قدرت کے ذریعہ یقیناً سزا ملے گی جو اللہ تعالیٰ کے جاری کردہ ہیں۔اور ایسا اس وقت ہوگا جب وہ تمام عوامل جن کی بحث اوپر گزر چکی ہے بالآخر انسان کو اقتصادی عدم توازن اور جنگ کی طرف لے جائیں گے۔یاد رہے کہ بدنظمی، فساد اور جنگیں ہمیشہ غرباء کے استحصال اور ان کے حقوق غصب کرنے کے نتیجہ میں برپا ہوتی ہیں۔اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے بارہ میں خبر دار کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ایسی ریاست جس کا سود پر دارو مدار ہو بالآ خر ضرور ایک ایسی صورت حال سے دو چار ہو کر رہے گی جب قومیں جنگ کے لئے ایک دوسرے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں گی۔سود کے اس پہلو کو تفصیل سے بیان کرنے کی اس وقت گنجائش نہیں لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ قرآن کریم نے جہاں بھی سود کی ممانعت کا ذکر کیا اس سے بعد کی آیات میں ہمیشہ جنگ کا ذکر ہے۔اس سے سود اور جنگ کے درمیان تعلق کی نشان دہی ہوتی ہے۔جو لوگ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے حالات سے واقف ہیں انہیں یاد ہو گا کہ ان جنگوں کے آغاز کا ایک سبب سرمایہ دارانہ نظام تھا اور پھر انہیں طول دینے میں بھی اس نظام نے تباہ کن کردار ادا کیا تھا۔دولت کے انبار لگانے کی ممانعت اسلام استحصال کی ہر شکل اور ہر قسم کے ناجائز ذرائع اختیار کرنے کو رد کرتا ہے 223