اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 215
بآسانی مل جانے سے اپنی چادر دیکھے بغیر پاؤں پھیلانے کی عادت اور زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔لوگ زیادہ خرچ کرنے لگ جاتے ہیں اور ان کی قرض لوٹانے کی طاقت کم ہوتی جاتی ہے۔ایسے معاشرہ میں صارفین کی مانگ کو پورا کرنے کے لئے پیداوار میں اضافہ تو ہو جاتا ہے لیکن یہ ایک غیر حقیقی اضافہ ہوتا ہے۔ایک ایسا معاشرہ جہاں معیار زندگی کو بلند سے بلند تر کرنے کی دوڑ ایک جنون کی شکل اختیار کر چکی ہو وہاں اشیائے صرف کے نت نئے ماڈلوں کی تشہیر سے یہ جنون بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ان اشتہارات کے ذریعہ عوام امراء کے پرتعیش طرز زندگی سے متعارف ہوتے ہیں۔نئے سے نئے ڈیزائن کے فرنیچر کو دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔تفریحی مقامات پر بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے پر تعیش گھر اور ان میں طرح طرح کے برقی مشینی آلات سے آراستہ جدید طرز کے باورچی خانے اور غسل خانے ان کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔یہاں تک کہ کم استطاعت رکھنے والے لوگ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے نہ چاہتے ہوئے بھی اس جھوٹی چکا چوند کا پیچھا کرنے لگ جاتے ہیں جو سود پر انہیں بآسانی مل جاتی ہے۔نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ خرچ آمد سے بڑھ جاتا ہے۔اگر وہ اپنا قرض بلا سود بھی واپس کریں تو پھر بھی قرض اگر چہ موجودہ قوت خرید کو تو بظاہر بڑھاتا ہے لیکن دراصل مستقبل کی قوت خرید کا گلا گھونٹ کر رکھ دیتا ہے۔مثلاً ایک شخص ایک ہزار ڈالر ماہوار کماتا ہے اور فرض کریں کہ وہ چالیس ہزار ڈالر قرض لے کر مہنگی اشیاء خریدتا ہے۔اب اس شخص کی قرض واپس کرنے کی قوت کا تعین اس کی ماہانہ بچت سے ہی ہو گا۔فرض کریں کہ وہ اپنا پیٹ کاٹ کر بمشکل چھ سو ڈالر ماہوار میں گزارہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس صورت میں اس کی ماہوار بچت چار سو ڈالر ہو گی۔اس تنگ بجٹ میں اسے آئندہ ایک سو ماہ گزارہ کرنا ہوگا تا کہ وہ اس قرض کو اتار سکے جو چالیس ہزار ڈالر کے شاہانہ خرچ کی وجہ سے اسے 215