اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 212

بھگتنا پڑی ہے۔یادر ہے کہ ان اقدامات کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ ان سے قیمتوں میں کمی ہوگی اور عام آدمی کو فائدہ پہنچے گا۔مگر ہوا یہ کہ قرض لے کر جو مکان تعمیر کئے گئے تھے ان کی قیمتیں تیزی سے گرنا شروع ہو گئیں۔اب لوگوں کی حالت یہ ہے کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن نہ تو وہ قرض کی بڑی بڑی قسطیں ادا کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اس جائیداد کا کوئی مناسب خریدار مل رہا ہے۔۔(ج) افراط زر کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہے۔اگر چہ میرے خطاب کا یہ مقصد تو نہیں کہ اس موضوع پر کوئی طویل اور غیر ضروری بحث میں الجھا جائے تاہم بعض وجوہات کے باعث جن کا ذکر بعد میں ہو گا آپ کی اجازت سے اس موضوع پر کچھ کہنا چاہوں گا۔افراط زر کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خریدار کی جیب میں وافر رقم سے طلب تو مصنوعی طور پر بڑھ جاتی ہے مگر رسد میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔لوگوں کے پاس پیسہ تو ہوتا ہے مگر مارکیٹ میں اشیائے خرید کی رسد میں کمی آجاتی ہے۔قوت خرید تو بڑھ جاتی ہے مگر خریدی جا سکنے والی چیزوں کی فراہمی گھٹ جاتی ہے۔لیکن برطانیہ کی معیشت میں غالباً یہ صورت حال نہیں ہے۔یہاں زیر گردش سرمایہ کے زیادہ ہونے سے ملکی مارکیٹ میں صنعتی پیداوار کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ امر بڑی حد تک برطانوی صنعت کے لئے باعث تقویت ہے۔اس سلسلہ میں ٹیکسوں میں کمی اور عالمی منڈی میں پاؤنڈ سٹرلنگ کی مناسب شرح تبادلہ نے بھی مثبت کردار ادا کیا ہے۔برطانوی پاؤنڈ کی اس معتدل شرح تبادلہ کی وجہ سے برطانوی مصنوعات کے غیر ملکی خریدار پیدا ہوئے ہیں جس کا فائدہ برطانوی صنعت کو ہوا ہے جسے پہلے ہی اپنی پیداوار کی مقامی طور پر بڑھتی ہوئی مانگ اور کھپت سے مدد مل رہی تھی۔212