اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 209

سود کی ممانعت اسلام کے اقتصادی نظام میں سود کا قطعاً کوئی عمل دخل نہیں ہے۔کوئی تاریخی یا حالیہ شہادت نہیں ملتی کہ سود کے نہ ہونے کی نتیجہ میں افراط زر کی مصیبت خوفناک حد تک بڑھ گئی ہو اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہوں۔سود کا ہونا یا نہ ہونا افراط زر پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے اس کے موازنہ کا ایک دلچسپ موقع موجودہ زمانہ میں پیدا ہوا۔ماؤزے تنگ کی قیادت میں چین کی حکومت نے بہت سے اقتصادی تجربات کئے ان میں سے بعض تو کامیاب نہ ہو سکے مگر بعض کے بہت شاندار نتائج نکلے۔ماؤزے تنگ کے سارے دور میں افراط زر میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بالآخر مجموعی پیداوار میں اضافہ کا رجحان پیدا ہوا اور قیمتیں گرنی شروع ہو گئیں۔چین کے برعکس اسرائیل میں (جو شاید دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بڑا نمائندہ ملک ہے ) افراطِ زر کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔البتہ لاطینی امریکہ کے ممالک یقیناً ایک استثناء ہیں اسی طرح یورپ خصوصاً جرمنی میں دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد افراط زر میں بے تحاشا اضافہ ضرور ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔لیکن جنگ کے بعد سارے یورپ کو ایک غیر معمولی صورت حال کا سامنا تھا اور یہ اضافہ بھی اسی کا نتیجہ تھا۔پس عام حالات میں کسی بھی معیشت میں سود کے کردار کے متعلق وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ افراط زر اور سود دونوں لازم و ملزوم ہیں۔برطانیہ میں شرح سود کا مسئلہ برطانیہ میں بلند شرح سود کے مفید پہلوؤں پر حالیہ گرما گرم بحث اس موضوع پر مطالعہ کے لئے ایک دلچسپ مثال ہے۔ٹوری یعنی قدامت پسند حکومت 209