اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 206 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 206

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله ، نماز ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور مکہ معظمہ میں بیت اللہ کا حج کرنا ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے۔ا وہ وہ وہ۔وہ واقيموا الصلوة واتوا الزكوة وأطيعوا الرسول لعلكم ترحمون (سورۃ النور آیت ۵۷) ترجمہ:۔اور نماز کو قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔عربی لفظ زکوۃ کے لفظی معنی کسی چیز کو پاک کرنے کے ہیں۔اس لحاظ سے دولت پر لازمی ٹیکس یعنی زکوۃ کی ادائیگی کے معنی یہ ہوں گے کہ باقی ماندہ مال مومنوں کے لئے پاک اور جائز ہو گیا ہے۔زکوۃ کی شرح زیر استعمال اثاثوں پر اڑھائی فیصد ہے جب کہ یہ اثاثے ایک مقررہ حد سے زیادہ ہوں اور ایک ہی شخص کی ملکیت میں ان پر ایک سال سے زائد عرصہ گزر جائے۔اس ٹیکس کی شرح پر اگرچہ بہت کچھ کہا جا چکا ہے لیکن قرآن کریم میں کسی معین شرح کا حوالہ نہیں ملتا۔میں اس سلسلہ میں قرون وسطی کے علماء کے کٹر نظریہ سے اختلاف کرتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ زکوۃ کی شرح میں لچک رکھی گئی ہے اس لئے اس کا تعین ہر ملک کے اقتصادی حالات کے مطابق کیا جانا چاہئے۔زکوۃ ایک خاص حد سے زیادہ مال پر عائد ہونے والا ٹیکس ہے اور صرف بعض قسم کے اخراجات کے لئے استعمال ہو سکتا ہے۔زکوۃ کے یہ مصارف قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت میں بیان ہوئے ہیں۔إِنَّمَا الصَّدَقَتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِيْن والعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَرِمِينَ وَ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللهِ وَاللَّهُ عليمٌ حَكِيمٌ 206 (سورۃ التوبہ آیت (۶۰)