اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 205

انسان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حق امانت پوری ایمانداری اور انصاف سے ادا کرے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: ه و و وه - ورد 11-0 إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَ إِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ دَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا ط (سورۃ النساء آیت ۵۹) ترجمہ :۔یقینا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔یقیناً بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔یقیناً اللہ بہت سننے والا (اور ) گہری نظر رکھنے والا ہے۔یہ حقیقت کہ مادی دولت آزمائش کا ایک ذریعہ ہے۔قرآن کریم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔280 - No۔To en إِنَّمَا أَمْوَالَكُمْ وَ أَوْلادَكُمْ فِتْنَةٌ وَاللهُ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ (سورة التغابن آیت ١٦ ) ترجمہ :۔تمہارے اموال اور تمہاری اولا د محض آزمائش ہیں۔اور وہ اللہ ہی ہے جس کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔اسلام میں ملکیت کے ضمن میں ایک اہم بات یہ ہے کہ بعض پیداواری ذرائع کو فرد کی ذاتی ملکیت قرار دینے کی بجائے مجموعی طور پر بنی نوع انسان کی ملکیت قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ اسلامی تعلیم کے مطابق معدنی ذرائع اور سمندری پیداوار کسی فرد واحد یا چند افراد کی ملکیت نہیں ہوسکتی۔زكوة زکوۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے۔باقی ارکان کلمہ 205