اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 204

کا حق ادا کیا ہے؟ ایک شخص کا دولت مند ہونا یا دولت سے محروم ہونا یہ دونوں حالتیں دراصل اس کی آزمائش کی مختلف شکلیں ہیں تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون خوشحالی اور تنگ دستی میں اپنے محاسبہ کا فکر رکھتا ہے اور کون ہے جو بنی نوع انسان کی تکالیف کے احساس سے عاری ہو جاتا ہے اور اسے خیال تک نہیں آتا کہ انسانیت کن مصائب سے دو چار ہے۔قرآن کریم بار بار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ 280 وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (سورۃ آل عمران آیت ۱۹۰) ترجمہ:۔اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت۔اور اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائگی قدرت رکھتا ہے۔پھر قرآن کریم ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے سب کچھ مخلوق کے لئے پیدا کیا ہے تو چاہئے کہ اس میں دوسروں کے حصہ کو بھی تسلیم کیا جائے۔6260 أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذَا لَّا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا۔(سورۃ النساء آیت ۵۴) ترجمہ:۔کیا ان کا بادشاہت میں سے کوئی حصہ ہے۔تب تو وہ لوگوں کو ( ہرگز اس میں سے ) کھجور کی گٹھلی کی لکیر کے برابر بھی نہیں دیں گے۔وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِيْنَ فُضِّلُوا بِرَادِي عَلَى مَامَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ، أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُوْنَ ( سورۃ النحل آیت ۷۲ ) ترجمہ۔اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض دوسروں پر رزق میں فضیلت بخشی ہے۔پس وہ لوگ جنہیں فضیلت دی گئی وہ کبھی اپنے رزق کو ان کی طرف جو ان کے ماتحت ہیں اس طرح لوٹانے والے نہیں کہ وہ اس میں ان کے برابر ہو جائیں۔پھر کیا وہ اللہ کی نعمت کے بارہ میں جھگڑتے ہیں؟ 204