اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 199
ہوئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ معاشرہ اقتصادی عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے۔كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ وَلا تَحْضُونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ وَتَأْكُلُونَ التراث أكلاً لمَّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمَّاه ( سورة الفجر آیات ۱۸ تا ۲۱) ترجمہ۔خبردار! در حقیقت تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔اور نہ ہی مسکین کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو۔اور تم ورثہ تمام تر ہڑپ کر جاتے ہو۔اور مال سے بہت زیادہ محبت کرتے ہو۔مختصر طور پر یہ خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔1 (۱) یتامی کے ساتھ بے عزتی کا سلوک (۲) غرباء کو کھانا کھلانے کی طرف عدم توجہ (۳) دوسروں کی وراثت پر ناجائز قبضہ (۴) چند ہاتھوں میں بے انتہا مال کا جمع ہونا سرمایہ دارانہ نظام بالآ خر تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔اسلام سائینٹیفک سوشلزم کے فلسفہ کی حمایت نہ کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کے بعض پہلوؤں کو بھی مستردکر دیتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ل الْهَكُمُ التَّكَاثُرُه حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَه كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ( سورۃ التکاثر آیات ۲ تا ۴) ترجمہ: تمہیں غافل کر دیا ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی دوڑ نے۔یہاں تک کہ تم نے مقبروں کی بھی زیارت کی۔خبردار! تم ضرور جان لو گے۔دنیا کا بدلتا ہوا اقتصادی نظام اگر چہ یہ کلیہ کہ سودی نظام کے ہاتھوں غریبوں کا استحصال بالآ خر سوشلسٹ بغاوت 199