اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 200
پر منتج ہوتا ہے بظاہر ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے لیکن اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ محض ایک فریب نظر ہے۔اس وقت ساری دنیا ہی امارت اور غربت کی بنیاد پر تقسیم ہو چکی ہے۔اس کا سہرا بڑی حد تک اس استحصال کے سر ہے جو ترقی یافتہ سرمایہ دار ممالک نے پسماندہ ممالک کا کیا ہے۔مشرقی یورپ کے سوشلسٹ ممالک کا پشیمان ہو کر سرمایہ دارانہ نظام کی طرف لوٹنا ایک ایسا واقعہ ہے جس سے استحصال کی یہ صورت حال اور بھی گھمبیر ہو گئی ہے۔تیسری دنیا کی غریب اور مفلوک الحال قوموں کا ابھی اور کتنا خون چوسا جائے گا، اس تصور سے ہی انسان کانپ کر رہ جاتا ہے۔بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خونخوار بھیڑیوں کی پیاس ابھی نہیں بجھی۔سرمایہ دارانہ نظام اور سوشلزم نے دنیا کو دو بڑے اقتصادی فلسفے دیئے ہیں۔یہ بات واضح ہے کہ دونوں کے درمیان جاری محاذ آرائی کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔وہ اقتصادی نظام جن کی بنیاد مارکس ازم اور لینن ازم پر تھی اب دنیا کے معاملات میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کر رہے۔دوسری طرف مغرب کی نام نہاد آزاد معیشت اپنی بظاہر فتح پر پھولی نہیں سما رہی۔مشرقی بلاک کے جملہ ممالک اپنی نئی آزادی کے حصول کے بعد اس جدو جہد میں مصروف ہیں کہ کسی طرح غربت کے ستائے ہوئے اپنے لاکھوں کروڑوں عوام کی حالت زار کو بہتر بنا سکیں۔ان مشرقی ممالک میں لے دے کر صرف چین ہی ایک استثناء ہے۔مشرق اور مغرب کے درمیان بعد اتنا نہیں ہے جتنا کہ شمال اور جنوب کے ممالک کے مابین۔شمال میں واقع پہلی دنیا کے ممالک افریقہ اور جنوبی امریکہ کے تیسری دنیا کے ممالک سے صرف جغرافیائی طور پر ہی الگ نہیں بلکہ اقتصادی طور پر بھی ان کے درمیان طویل فاصلے حائل ہیں۔شمالی اور جنوبی امریکہ کے درمیان پایا 200