اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 173
دی گئی ہے جو بے چارے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوں۔اسلام کے ابتدائی دور میں باوجود اس کے کہ مانگنے والوں کی عزت نفس پوری طرح محفوظ تھی پھر بھی وہ لوگ خوب اچھی طرح سمجھتے تھے کہ سوال نہ کرنا سوال کرنے سے بہتر ہے۔ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے مانگنے والے اور دینے والے میں موازنہ کرتے ہوئے فرمایا اَلْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفْلی یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔اس تعلیم کا نتیجہ تھا کہ بعض مسلمانوں نے غربت میں مرنا قبول کر لیا مگر زندہ رہنے کے لئے بھیک مانگنا پسند نہ کیا۔ایسے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد میں مصروف ہیں اور غربت کے ہاتھوں بے بس ہیں قرآن کریم نے سارے معاشرہ کو تو جہ دلائی ہے۔چنانچہ فرمایا: لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ - وو و ہ ووہ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمُهُمْ لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ ° ج 280 الْحَافًا ، وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرِ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (سورة البقرة آیت ۲۷۴) ترجمہ۔( یہ خرچ ) ان ضرورت مندوں کی خاطر ہے جو اللہ کی راہ میں محصور کر دیئے گئے (اور) وہ زمین میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ایک لاعلم (ان کے) سوال سے بچنے ( کی عادت ) کی وجہ سے انہیں متمول سمجھتا ہے (لیکن) تو ان کے آثار سے ان کو پہچانتا ہے۔وہ پیچھے پڑ کر لوگوں سے نہیں مانگتے اور جو کچھ بھی تم مال میں سے خرچ کرو تو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔اس امر کی مزید وضاحت مندرجہ ذیل آیت سے ہو جاتی ہے۔مَا آفَاءَ اللهُ عَلى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى 173