اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 153
گیا ہے: ہو وہ و 28- اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ، مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةِ فِيْهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي ° ط زُجَاجَة - الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّى يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا Jo شَرْقِيَّةِ وَلَا غَرْبِيَّةِ » يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْلَمْ تَمْسَسْهُ نَاره نُور عَلى نُور سلو لا يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ ، وَ يَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (سورۃ النور آیت ۳۶) b ترجمہ۔اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہو۔وہ چراغ شیشہ کے شمع دان میں ہو۔وہ شیشہ ایسا ہو گویا ایک چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے۔وہ (چراغ) زیتون کے ایسے مبارک درخت سے روشن کیا گیا ہو جو نہ مشرقی ہو اور نہ مغربی۔اس کا تیل ایسا ہے کہ قریب ہے کہ وہ از خود بھڑک کر روشن ہو جائے خواہ اسے آگ کا شعلہ نہ بھی چھوا ہو۔یہ نور علی نور ہے۔اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کا دائمی علم رکھنے والا ہے۔نیز قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین قرار دیا گیا ہے (سورۃ الانبیاء آیت ۱۰۸) جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ ساری دنیا اور سب بنی نوع انسان کے لئے سراپا رحمت ہیں۔لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کہ قرون وسطی کا مزاج رکھنے والے بہت سے مسلمان علماء جنہیں غلطی سے بنیاد پرست بھی کہا جاتا ہے یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ غیر مسلموں کے خلاف مسلح جہاد میں مصروف رہیں یہاں تک کہ غیر مسلموں کا یا تو مکمل صفایا ہو جائے یا پھر وہ اسلام قبول کر لیں۔قرآن کریم جس اسلام کو پیش کرتا ہے اس کا جہاد کے اس بگڑے ہوئے تصور سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔باب اول میں اس مضمون سے متعلق قرآن مجید 153