اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 132
بچوں کے دلوں میں جرم سے نفرت کی بجائے اس کی طرف رغبت پیدا ہونے لگتی ہے۔خاص طور پر بچوں کے لئے بنائے گئے پروگراموں میں بچوں کے مقبول کردار ایسی ایسی چالاکیاں اور نا واجب شرارتیں کرتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں جن کے نتیجہ میں گھروں کا امن اور سکون برباد ہونے لگتا ہے۔یہ پروگرام کتنے ہی دلچسپ اور مزے دار کیوں نہ ہوں سبق آموز ہرگز نہیں ہوتے۔بلاشبہ ٹیڑھے مزاج کے کئی بچے ایسے ہی پروگراموں کی پیداوار ہیں اور ایسے بچوں میں مجرم بننے کی ایک مخفی خواہش پہلے ہی سے کروٹیں لے رہی ہوتی ہے۔بڑی عمر کے لوگوں کے لئے بھی جو ٹی وی پروگرام بنائے جاتے ہیں ان میں بھی نا دانستہ طور پر جرم کے نئے سے نئے طریق سکھائے جاتے ہیں۔ایک ایسی نکمی زندگی کی منظر کشی کی جاتی ہے جو محض آرام طلبی اور کھیل کود سے عبارت ہے اور اس میں ایسی رنگ آمیزی کی جاتی ہے کہ دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ زندگی ہو تو ایسی ہو۔افسوس کہ دیکھنے والے بھول جاتے ہیں کہ تخیل اور حقیقت کے مابین کتنے فاصلے حائل ہیں اور نہیں جانتے کہ خوابوں کی دنیا حقیقی دنیا سے کتنی مختلف ہوتی ہے۔شاید بہت سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو کہ قرآن کریم نے بیکار مشاغل اور بے سود لذتوں کے پیچھے بھاگنے کی جو ممانعت کی ہے وہ ایک معمولی بات ہے لیکن درحقیقت یہ ایک بہت بڑا اور اہم حکم ہے۔ٹی وی اور تفریح کے دیگر ذرائع ایک ایسے ماحول کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جس میں مایوسیاں اور ناکامیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں اور انسان حیران ہوتا ہے کہ اس انحطاط کی آخری حد کیا ہوگی۔خواہشات پر قابو پانا۔قرآن کریم انسان کو اپنی خواہشات پر قابو پانے کی تلقین کرتا ہے۔دوسروں کو 132