اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 131
ترجمہ۔اور وہ جولغو سے اعراض کرنے والے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عقل مند لوگ اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو بے کار اور بے معنی مشاغل میں ضائع نہیں کرتے۔ہلکی پھلکی تفریح کے لئے کچھ وقت نکال لینا کوئی بری بات نہیں اور نہ ہی اسلام اس سے منع کرتا ہے۔لیکن اگر اس قسم کی تفریح سے معاشرہ پر بحیثیت مجموعی برے اثرات مرتب ہوتے ہوں تو پھر یقیناً اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی۔تفریح کا مقصد تو زندگی کی مصروفیات کے باعث پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ اور پریشانیوں میں کمی کرنا ہے لیکن اگر تفریح فی ذاتہ ایک مقصد بن جائے تو قرآن کریم کی اصطلاح میں اسے لغو کہا جائے گا جس کے معنی بے کار، فضول اور بے مقصد کام کے ہیں۔جب تفریح زندگی کے اہم معمولات میں حارج ہو اور اس کے نتیجہ میں وہ قیمتی وقت ضائع ہو جس کا کوئی اور بہتر مصرف ہونا چاہئے تھا تو ایسی تفریح کو بھی عربی لغت کی رو سے لغو ہی کہا جائے گا۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ٹیلی ویژن کے ذریعہ بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں۔مگر بالعموم یہ دیکھا جاتا ہے کہ بچے سارا سارا دن ٹیلی ویژن کی سکرین پر نظریں جمائے بیٹھے رہتے ہیں۔لوگ اپنے کام سے واپس گھر لوٹتے ہیں تو خواہ کیسا ہی پروگرام کیوں نہ دکھایا جا رہا ہوئی وی کے سامنے ڈیرہ ڈال دیتے ہیں۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ایسا کرتے وقت وہ اپنی ان ذمہ داریوں سے غافل ہوتے ہیں جو ان کے بیوی بچوں، دوستوں اور بحیثیت مجموعی سارے معاشرہ کی طرف سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔ٹی وی اپنے بے جا استعمال کی وجہ سے جدید دور کی ایک لعنت بن چکا ہے۔ٹیلی ویژن دیکھنے میں اس قدر وقت ضائع کر دیا جاتا ہے کہ یہ اندازہ لگانا بے حد مشکل ہے کہ اس کے نقصانات زیادہ ہیں یا فوائد اور بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ٹی وی پر دکھائے جانے والے جرائم کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ 131