اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 130 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 130

سے مراد یہ ہے کہ والدین ہی ہیں جو اولاد کی صحیح تربیت نہ کرنے کے نتیجہ میں ان کے اخلاق کو تباہ کر کے گویا ان کے قتل کا ذریعہ بن جاتے ہیں جس کے لئے وہ اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔( مثلاً دیکھیں سورۃ الانعام آیت ۱۵۲) حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی پر زور نصیحت فرمائی ہے کہ نہ صرف اپنے بچوں سے بلکہ نئی نسل کے سب بچوں اور نو جوانوں سے پیار محبت اور تکریم کے ساتھ پیش آیا کریں۔آپ نے فرمایا۔اكرموا أولادَكُمْ (ابن ماجه، كتاب الأدب باب برالوالد والإحسان إلى البنات) یعنی اپنی اولاد کے ساتھ محبت اور پیار اور احترام کے ساتھ پیش آیا کرو۔یہی وہ تعلیم ہے جس کی آج کی دنیا کو ضرورت ہے۔آج کل برطانیہ میں بڑی سنجیدگی سے ایک ایسا قانون بنانے پر بحث کی جا رہی ہے جس کی رو سے والدین کو اپنے بچوں کے جرائم کا بالواسطہ ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے گا اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے گا جیسا عدالتیں کمسن مجرموں کے ساتھ کیا کرتی ہیں۔یہ بات بڑی شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے کہ اگر والدین اپنے بچوں کی تربیت کی ذمہ داری زیادہ سنجیدگی سے ادا کرتے تو برطانیہ کے گلی کوچوں میں جرائم کی تعداد کم ہو جاتی۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب مذہب کے سکھائے ہوئے اخلاق ذہنوں میں اچھی طرح سے راسخ نہ ہوں تو محض سزائیں دینے سے معاشرہ کی حالت کہاں تک بہتر بنائی جاسکتی ہے۔بے مقصد اور فضول مشاغل کی حوصلہ شکنی قرآن مجید معاشرتی اصلاح کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتا ہے: والَّذِين هم عنِ اللَّغْوِ مَعْرِضُونَ (سورۃ المومنون آیت ۴) 130