اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 123
قابل شرم اور باعث ذلت بات سمجھی جاتی ہے۔اکثر مسلمانوں کے نزدیک یہ ایک شرمناک بات ہے کہ اپنے بوڑھے رشتہ داروں کی ذمہ داری حکومت وقت پر ڈال دی جائے خواہ حکومت ان کی دیکھ بھال کرنے کے لئے بخوشی تیار بھی ہو۔اس اعتبار سے ایک مسلمان عورت کا خانگی اور گھر یلو کردار بچوں کے بالغ ہو جانے کے بعد ختم نہیں ہو جاتا۔اپنے خاندان کے ماضی سے ایک دائمی تعلق کے ساتھ ساتھ وہ مستقبل کے ساتھ بھی اپنا گہرا رشتہ استوار رکھتی ہے۔یہ عورت کا جذبہ شفقت و رحم اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنے کی فطری صلاحیت ہی ہے جو معاشرہ کے معمر افراد کے لئے سہارا بن جاتی ہے۔عورت کی توجہ سے ہی بوڑھے لوگوں کو پہلے جیسی قدر و منزلت اور پہلے جیسا احترام حاصل رہتا ہے اور وہ اپنے بڑھاپے میں بھی خاندان کا ایک لازمی جزو سمجھے جاتے ہیں۔ماں ان بزرگوں کی دیکھ بھال میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔وہ ان کے پاس بیٹھتی ہے تا کہ انہیں تنہائی کا احساس نہ ہو۔اس فرض کو وہ ایک مشقت اور چٹی نہیں بجھتی بلکہ اس میں انسانی رشتوں کا ایک طبعی زندہ اور پر جوش اظہار پایا جاتا ہے۔اور پھر وقت آنے پر وہ خود اس یقین کے ساتھ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے کہ معاشرہ اسے کبھی نہیں دھتکارے گا۔وہ یہ اطمینان رکھتی ہے کہ اسے گئے وقت کی بے مصرف نشانی سمجھ کر بے آسرا نہیں چھوڑ دیا جائے گا۔بلاشبہ اکاڈ کا استثنائی مثالیں تو ہر معاشرہ میں نظر آتی ہیں۔ایسے مسلمان معاشروں میں والدین کو بے سہارا چھوڑ دینے کے واقعات شاذ کے زمرے میں آتے ہیں اور دیگر معاشروں کے برعکس بوڑھوں کے الگ گھر بھی نسبتاً بہت کم تعداد میں دکھائی دیتے ہیں۔یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے جسے سن کر شاید بعض لوگ تو ہنس پڑیں لیکن ممکن ہے کچھ لوگوں کو یہ لطیفہ رُلا بھی دے۔ہوا یوں کہ ایک بچے کو یہ دیکھ کر کہ اس کا باپ 123