اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 122
عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال موجودہ دور میں معاشرہ کے عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری رفتہ رفتہ حکومت کے سر پر ڈالی جا رہی ہے۔بوڑھوں کی نگہداشت پر اٹھنے والے اخراجات کو قومی معیشت پر ایک بوجھ قرار دیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت ان لوگوں پر جتنا بھی خرچ کرنے پر آمادہ ہو وہ انہیں حقیقی اطمینان اور سکون مہیا نہیں کر سکتی۔ان کا دکھ تو یہ ہے کہ ان کے اپنے پیارے انہیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔وہ زندگی کے لق و دق صحرا میں بے یار و مددگار چھوڑ دیئے گئے ہیں۔تنہائی کا بڑھتا ہوا کرب انہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔یہ دکھ ایسے ہیں جن کا مداوا اکثر لوگوں کے بس کی بات ہی نہیں۔جب نزد یکی رشتہ دار ان ضعیف لوگوں کو بھول جائیں تو یہ بالکل ناممکن ہے کہ دور کے رشتہ دار مدد کے لئے آگے آئیں گے۔ایسے معاشروں میں بوڑھے لوگوں کے لئے الگ گھروں کی ضرورت رفتہ رفتہ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور حکومت کے لئے ہمیشہ یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بجٹ میں ان کے لئے اتنی رقم مختص کر سکے جس سے ایک شریفانہ زندگی کی کم سے کم ضروریات ہی پوری کی جاسکیں۔دوسرے یہ کہ ان کے اصل دکھ جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی ہیں۔جسمانی عوارض کا علاج گہرے نفسیاتی مسائل کی نسبت بہت آسان ہوتا ہے اور یہی نفسیاتی دکھ اور روحانی کرب ہیں جن میں آج بہت بڑی تعداد میں عمر رسیدہ لوگ مبتلا ہیں۔مسلم اکثریت رکھنے والے ممالک میں بھی اگر چہ اخلاقی اقدار زوال پذیر ہیں مگر جو صورت حال آج باقی دنیا میں در پیش ہے وہ نا قابل تصور ہے۔مسلمان ممالک میں آج بھی عمر رسیدہ لوگوں کے ساتھ ایسی بے رحمی اور بے عزتی کا سلوک روا رکھنا ایک 122