اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 121

نانانانی ، چاچی، پھوپھا پھوپھی، بھانجوں بھتیجوں، رشتے کے بھائی بہنوں اور پوتے پوتیوں وغیرہ کے ساتھ ایک پرخلوص سچے اور قریبی تعلق کی وجہ سے مزید مضبوط ہو جائے گا۔یہ شعور کہ ہم کسی کے ہیں اور کوئی ہمارا ہے محبت اور مسرت کے نئے نئے راستے دریافت کرتا رہتا ہے اور یوں ایک وسیع تر خاندانی نظام قائم ہوتا چلا جاتا ہے۔(۳) اس قسم کے وسیع خاندانی نظام سے وابستہ گھروں کے ٹوٹنے اور بکھر نے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔آج کے معاشرہ میں عموما لوگ محض گھر کے نام پر ایک چھت کے نیچے رہ کر زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔لیکن اگر محبت و الفت کے وسیع تعلقات قائم ہو جائیں تو یہ منظر بدل جاتا ہے۔خاندان کے بزرگوں کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ان کی ذات خاندان کی اکثر سرگرمیوں کا محور بن جاتی ہے۔وہ ایک شمع کی مانند ہوتے ہیں جنکی طرف سب پروانہ وار کھنچے چلے آتے ہیں۔پیار اور محبت کے یہ گہرے رشتے زندہ رہیں تو تنہائیوں کے مارے ہوئے ایسے شکستہ حال لوگ پیدا نہیں ہوتے جنہیں لوگ فراموش کر چکے ہوں اور معاشرہ میں ان کا کوئی مقام باقی نہ رہا ہو یہاں تک کہ خود ان کے گھر والوں نے انہیں بے کار اور نکما جان کر ان سے قطع تعلق کر لیا ہو۔خاندان اور گھر کے متعلق اسلام کا تصور بعینہ یہی ہے۔اسلامی نظریہ کے مطابق گھر معاشرتی زندگی کی سب سے اہم اور بنیادی اکائی ہے۔اس کے برعکس عصر حاضر کے جدید معاشروں میں بہت سے بوڑھے یا معذور ماں باپ کو بوجھ سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ عصر جدید میں گھر اور خاندان کا تصور اسلام کے دیئے ہوئے تصور سے بہت مختلف ہے۔121