اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 120
کہ عورت کا اصل مقام اس کا گھر ہے۔اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے کہ عورتیں ہمیشہ باورچی خانہ یا گھر کی چاردیواری کے اندر ہی قید رہیں۔اسلام کسی بھی طرح عورتوں کو اس حق سے محروم نہیں کرتا کہ وہ اپنے فارغ اوقات میں کسی کام کی انجام دہی کے لئے گھروں سے باہر جائیں یا وہ اپنی پسند کے کسی صحت مند شغل میں حصہ لیں مگر شرط صرف یہ ہے کہ عورتوں کی ان سرگرمیوں کی وجہ سے ان کے اصل فرائض کی ادائیگی یعنی آئندہ نسل کی نگہداشت متاثر نہ ہو۔اور ان کی یہ زائد مصروفیات مستقبل کی نسلوں کے مفاد کے تحفظ اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں حارج نہ ہوں۔چنانچہ دیگر وجوہات کے علاوہ اس وجہ سے بھی اسلام عورتوں کی حد سے زیادہ سماجی سرگرمیوں میں شمولیت اور مردوں کے ساتھ آزادانہ میل جول کی سختی کے ساتھ حوصلہ شکنی کرتا ہے۔اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ عورت کی سرگرمیوں کا اصل مرکز اس کا گھر ہونا چاہئے۔دور جدید کی بہت سی برائیوں کا یہ ایک بہت دانشمندانہ اور عملی حل ہے۔اگر گھر عورت کی دلچسپی کا مرکز نہ رہے تو بچے نظر انداز ہو جاتے ہیں اور گھریلو زندگی تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ایک ایسے گھر کی تعمیر جہاں ماں کو مرکزی حیثیت حاصل ہو دیگر خونی رشتوں کی مضبوطی کا تقاضا کرتی ہے۔اس کے لئے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ایک سچا اور پر خلوص تعلق قائم کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔اگر چہ ہر فیملی یونٹ الگ الگ رہ سکتا ہے لیکن اسلام ایک وسیع تر خاندان کے تصور کو قائم کرتا ہے اور اسے فروغ دیتا ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں۔(۱) وسیع تر خاندان کا تصور معاشرتی عدم توازن کو روکتا ہے۔(۲) ماں باپ، بیٹے بیٹیوں اور بہن بھائیوں وغیرہ کے درمیان محبت کا مضبوط رشتہ ایک صحت مند گھر کی حفاظت کرتا ہے۔گھر کے افراد کا یہ طبعی قرب دادا دادی، 120