اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 114

میں کوئی تضاد نہیں ہے ایک ایسی تعلیم دے جو واضح طور پر غیر فطری اور غیر حقیقی ہو۔ایک ایسی تعلیم جس پر اگر عمل کی کوشش کی جائے تو توازن خطرناک حد تک بگڑ جائے گا اور ایسی مشکلات اور مایوسیاں پیدا ہوں گی جنکا کوئی حل نہیں ہوگا۔ایک ایسے چھوٹے سے ملک کا تصور کریں جس میں شادی کے قابل مردوں کی تعداد دس لاکھ ہے اور کم و بیش اتنی ہی عورتیں ہیں جو شادی کے قابل ہیں۔اگر تعدد ازدواج کی اس اجازت کو ایسا حکم سمجھا جائے جس پر حرف بحرف عمل کرنا ضروری ہو تو صرف دو لاکھ پچاس ہزار مرد دس لاکھ عورتوں سے شادی کر لیں گے اور سات لاکھ پچاس ہزار مرد بن بیا ہے رہ جائیں گے۔حالانکہ دنیا کے سب مذاہب سے زیادہ اسلام تمام مردوں اور عورتوں پر زور دیتا ہے کہ وہ شادی کریں۔قرآن کریم کے نزدیک میاں بیوی کا تعلق محبت کے فطری جذبہ پر مبنی ہوتا ہے اور دونوں کے لئے تسکین اور طمانیت کا سامان مہیا کرتا ہے۔فرمایا: وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الْمُؤْمِتِ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا ہو وہ وس و وہ وہ وہ اتيتموهن أجورهن محصِنِينَ غَيْر مسفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَان (سورۃ المائدہ آیت ۶) ترجمہ۔اور پاکباز مومن عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاکباز عورتیں بھی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہیں جبکہ تم انہیں نکاح میں لاتے ہوئے ان کے حق مہر ادا کرو نہ کہ بدکاری کے مرتکب بنتے ہوئے اور نہ ہی پوشیدہ دوست بناتے ہوئے۔اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم تجرد کی زندگی بسر کرنے کے نظریہ کو رد کرتا ہے اور اسے انسانوں کا خود ساختہ دستور یا رواج قرار دیتا ہے (مثال کے طور ملاحظہ ہو سورۃ الحدید آیت (۲۸) دنیا سے اپنے آپ کو الگ تھلگ کر لینے سے کچھ بھی 114