اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 105
اسلام میں پردہ کا حکم زمانہ جاہلیت کی کسی تنگ نظری کی پیداوار نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پردہ کا رواج یا عورتوں اور مردوں کے آزادانہ میل جول کا رجحان زمانہ کی ترقی یا پسماندگی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔تاریخ عالم میں ہمیشہ سے ایسا ہوتا آیا ہے کہ معاشرتی تمدن کی ناؤ مذہبی یا سماجی لہروں کے مدوجزر کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی رہی ہے۔آزادی نسواں کا تصور بھی کوئی ایسا رجحان نہیں ہے جو رفتہ رفتہ پیدا ہوا ہو۔اس امر کی قوی شہادتیں موجود ہیں کہ بہت قدیم زمانوں میں بھی اور ماضی قریب میں بھی دنیا کے مختلف خطوں میں طبقہ نسواں معاشرہ میں بہت طاقتور اور غالب حیثیت کا مالک رہا ہے۔اسی طرح مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ہرگز کوئی نئی اور عجیب بات نہیں ہے۔تہذیبیں دنیا میں ابھرتی اور مٹتی رہتی ہیں۔انسانی عادات و اطوار اور فیشن بھی آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔نہ جانے کتنے ہی سماجی رجحانات نت نئے تجربات میں سے گزر کر بنتے ہیں اور بگڑتے رہتے ہیں اور تہذیب انسانی ہر آن ایک نیا منظر پیش کرتی رہی ہے۔یہ کوئی ایسا دائگی اور مستقل رجحان نہیں جس سے ہم یہ حتمی نتیجہ نکال سکیں کہ انسانی تاریخ نے ہمیشہ ایک باپردہ معاشرہ سے مخلوط معاشرہ کی سمت میں ہی سفر کیا ہے یا عورتیں چادر اور چار دیواری کی قید سے آزادی نسواں کی منزل کی طرف بڑھتی رہی ہیں۔حقوق نسواں کے ایک نئے دور کا آغاز یہاں مناسب ہوگا کہ ہم تاریخ عرب کے اس تاریک دور کا جائزہ لیں جس میں اسلام کا ظہور ہوا۔مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق اسلام کا پیغام وحی الہی پر مبنی تھا۔اس کے برعکس غیر مسلموں کے نزدیک یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خود ساختہ تعلیم 105