اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 93 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 93

یہ وہ خدا ہے جس نے زمین و آسمان پیدا کئے ہیں۔اس کی ذات بشری کمزوریوں سے بالکل پاک ہے۔قرآن کریم بار بار ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ کے نشانات پر غور کرنے کی تاکید کرتا ہے۔مثال کے طور پر فرماتا ہے۔つ تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالحَيُوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ " 91 - 0 سموتِ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفُوتِ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى 280 مِن فُطُورِ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِنًا وَهُوَ حَسِيرٌ ( سورۃ الملک آیات ۲ تا ۵) ترجمہ۔بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضہ قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔اور وہ کامل غلبہ والا (اور ) بہت بخشنے والا ہے۔وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔تو رحمان کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا۔پس نظر دوڑا۔کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے؟ نظر پھر دوسری مرتبہ دوڑا، تیری طرف نظر ناکام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہاری ہوگی۔اللہ تعالیٰ کی شبیہ کا صحیح مفہوم سمجھ لینے کے بعد جب انسان آغاز تخلیق سے لیکر کائنات کے آج تک ہونے والے ارتقاء کو دیکھتا ہے تو پکار اٹھتا ہے کہ عدم شعور سے شعور تک کا یہ سارا سفر اللہ تعالیٰ کی شبیہ اختیار کرنے اور انسانی وجود کو خدائی صفات سے متصف کرنے کی کوشش ہی سے عبارت ہے۔93