اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 82 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 82

جب ایک معاشرہ بیمار ہو جاتا ہے یا بے جا تکلفات کے باعث عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ تیزی سے زوال پذیر ہونا شروع ہو جاتا ہے اور لوگ پہلے کی طرح جانوروں کی مانند اندھا دھند اپنی سفلی خواہشات کی تسکین کے سامان ڈھونڈ نے لگتے ہیں۔ضروری نہیں کہ یہ صورت حال ہر قسم کی سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں میں دکھائی دے لیکن اس کی جھلک ان انسانی تعلقات اور رویوں میں واضح طور پر دکھائی دینے لگتی ہے جو لذات کے گرد گھومتے ہیں۔بنی نوع انسان کے جنسی تعلقات کے حوالہ سے دیکھا جائے تو یہ نکتہ خوب واضح ہو جاتا ہے کہ جنسی جذبہ ایک بنیادی جبلت ہے۔قدرت نے تمام عالم حیوانات میں بقائے نسل کی خاطر اس جبلت میں ایک لذت بھی رکھ دی ہے لیکن انسانوں اور جانوروں میں فرق یہ ہے کہ انسان فطری خواہشات کو جانوروں کی طرح پورا کرنے کی بجائے رفتہ رفتہ اپنے جذبوں کی تسکین کیلئے شائستہ اور مہذب انداز اختیار کر لیتا ہے۔یادر ہے کہ ان جذبات کی تسکین ہی قدرت کا مقصود نہیں بلکہ اصل مقصد بقائے نوع انسانی ہے۔لذات کا حصول محض ثانوی حیثیت رکھتا ہے لیکن ایک بیمار معاشرہ میں جنسی جذبوں کی تسکین فی ذاتہ مقصود بن جاتی ہے اور نسل انسانی کی بقا کا مقصد ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔شادی بیاہ اور اس سے وابستہ جنسی تعلقات پر عائد پابندیاں (Taboos) ایک ماہر عمرانیات کے نزدیک تو معاشرہ کے ارتقائی عمل کا نتیجہ ہیں۔ممکن ہے کہ اس کے نزد یک مذہب کا اس عمل سے براہ راست کوئی تعلق نہ ہولیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تدریجی عمل کسی بالا ہستی کے ارادہ کا نتیجہ ہے یا اتفاقات کے سہارے خود بخود آگے بڑھتا رہا ہے؟ اس کا جواب خواہ کچھ بھی ہو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بنیادی فطری خواہشات کی تسکین کے طریق رفتہ رفتہ پہلے سے زیادہ شائستہ اور مہذب ہوتے چلے گئے ہیں۔88 82