اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 51

کا کام حضرت عمرؓ نے کر دیا۔بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھانے کے لئے تشریف لا رہے تھے تو حضرت عمر اچانک آگے بڑھ کر حضور کے رستے میں کھڑے ہو گئے۔آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرمائیں۔یعنی عبد اللہ بن اُبی بن سلول کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں۔اس موقع پر حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید کی اس آیت کا حوالہ بھی دیا جس میں بعض منافقین کے متعلق شفاعت قبول نہ کئے جانے کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے ستر مرتبہ بھی دعائے مغفرت کریں تو بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ضمنا یہاں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ستر سے یہاں لفظاً ستر کا عدد مراد نہیں ہے۔عربوں کے محاورہ کے مطابق ستر کثرت پر بھی دلالت کرتا ہے اور یہاں انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔بہر حال حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمرؓ کی بات سن کر مسکرائے اور فرمایا۔عمر میرا راستہ چھوڑ دو میں خدا کا رسول ہوں اور تم سے بہتر جانتا ہوں۔اگر خدا میرے ستر مرتبہ مغفرت طلب کرنے پر بھی ایسے لوگوں کو معاف نہیں کرے گا تو میں ستر سے زیادہ مرتبہ ان کے لئے استغفار کروں گا۔بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن اُبی بن سلول کی نماز جنازہ پڑھائی۔(بخاری کتاب الجنائز باب الکفن) جو لوگ شاتم رسول کے لئے موت سے کم کسی سزا پر راضی نہیں ہوتے یہاں تک که چیخ چیخ کر ان کے گلے بیٹھ جاتے ہیں کیا ان کا منہ بند کرنے کے لئے یہی ایک واقعہ کافی نہیں؟ یقینا ایسا مذہب ہی دنیا بھر کے مذاہب کے مابین امن قائم کرنے کے دعوی کا حق رکھتا ہے۔51