اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 308

بنی نوع انسان کے لئے نور اور رحمت کا منبع قرار دیا جائے گا۔لیکن آدمی یہ دیکھ کر صلى الله حیران رہ جاتا ہے کہ قرآن کریم آنحضرت ﷺ کو رَحْمَةٌ لِّلْعَلَمِينَ قرار دیتا ہے صلى الله یعنی آپ نہ صرف بنی نوع انسان بلکہ تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں (سورۃ الانبیاء آیت (۱۰۹۔عربی میں عالم کے معنی ایک جہان یا سارے جہان کے ہوتے ہیں لیکن یہاں العالمین کا لفظ استعمال ہوا ہے جو عالم کی جمع ہے۔اس لحاظ سے یہاں اس لفظ سے مراد ایک جہان نہیں بلکہ تمام جہان ہیں۔ممکن ہے ایک متشکلک اتنے بڑے دعوی کی صداقت کا قائل نہ ہو سکے لیکن اگر مقام نبوت کی آفاقیت جو آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے، کا گہرا عرفان نصیب ہو جائے تو انسان پر رَحْمَة للعلمین کے مقام و مرتبہ کی عظمت کھل جاتی ہے۔تخلیق انسانی کا مقصد قرآن کریم کے نظریہ کے مطابق اگر یہ کائنات محض بے جان اور بے شعور مخلوقات پر مشتمل ہوتی تو تخلیق کائنات کا فعل ہی نعوذ باللہ عبث اور لغو ٹھہرتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایک باشعور مخلوق نہ ہوتی تو خالق کا عرفان کسے نصیب ہوتا۔تخلیق کا ئنات کا مقصد دراصل ایک ایسے شعور کی تخلیق تھا جسے رفتہ رفتہ ترقی اور وسعت دے کر ایک اعلیٰ مقام تک پہنچانا تھا تا کہ تخلیق کا اصل مقصد حاصل کیا جاسکے۔ظاہر ہے کہ یہ کوئی معمولی مقصد نہیں ہے۔اس کی پوری وضاحت ایک الگ تفصیلی بحث کی محتاج ہے جس کی آج کے خطاب میں گنجائش نہیں ہے البتہ آسان لفظوں میں مختصر یوں کہہ سکتے ہیں کہ تخلیق کائنات کی علت غائی ایک اعلیٰ درجہ کی باشعور ہستی کی پیدائش ہی تھی جو نہ صرف اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کے حسنِ کامل کے 308