اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 257

اس امر کا جائزہ لینا بے حد ضروری ہے کہ آج قومی اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی امن کی کیا صورت حال ہے۔سب سے پہلے اس سوال کا جواب دریافت کرنا ہوگا کہ انسان کے لئے کون سا سیاسی نظام سب سے بہتر ہے۔اس کے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہوگا کہ کیا کسی قوم کی بے اطمینانی اور ان کے مصائب کا باعث ان کے سیاسی نظام کی ناکامی اور اس میں پائے جانے والے نقائص ہیں یا اس کے پس منظر میں کوئی اور عوامل کارفرما ہیں۔پھر یہ کہ کیا نظام کی ناکامی کا ذمہ دار خود نظام ہے یا اس نظام کو چلانے والے؟ اور کیا جمہوری عمل کے ذریعہ اقتدار پر قابض خود غرض، لالچی اور بدعنوان سیاسی راہنما بہتر ہیں یا مثال کے طور پر ایک ایسا آمر جو نیک اور شریف انسان ہو؟ نیز اسلام عالمی امن کو یقینی بنانے کے لئے دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح سیاست دانوں کو بھی ایک مکمل ضابطہ اخلاق پر کار بند رہنے کی نصیحت کرتا ہے۔اسلام کسی سیاسی نظام کو کلیۂ رد نہیں کرتا سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ جہاں تک مختلف سیاسی نظاموں کا تعلق ہے اسلام نہ تو کلیۂ کسی سیاسی نظام کو رد کرتا ہے اور نہ ہی کسی ایک نظام کو سب اعلیٰ و افضل قرار دیتا ہے۔بلا شبہ قرآن کریم جمہوری نظام کا بھی ذکر کرتا ہے جس میں عوام اپنے حکمران خود منتخب کرتے ہیں لیکن جمہوریت ہی اسلام کا تجویز کردہ واحد نظام حکومت نہیں، نہ ہی ایک عالمگیر مذہب کا یہ کام ہے کہ وہ دنیا بھر کے مختلف ممالک اور مختلف معاشروں کے لئے ایک ہی قسم کا نظام حکومت تجویز کرے کیونکہ ایک ہی سیاسی نظام مختلف علاقوں اور مختلف معاشروں کے لئے قابل عمل نہیں ہو سکتا۔257