اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 245

سکیں۔اونچے طبقہ سے تعلق رکھنے والے امراء بخوشی نچلے طبقہ کے لوگوں سے ملیں تا کہ وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ غربت میں زندگی کاٹنے کے کیا معنی ہوتے ہیں۔اسلام کئی ایسے اقدامات کرتا ہے جن سے یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ معاشرہ الگ الگ طبقات میں اس طرح تقسیم ہو جائے کہ ان کا کوئی باہم رابطہ ہی نہ رہے اور وہ ایک دوسرے سے کٹ کر رہ جائیں۔ان اقدامات میں سے بعض کا مختصر ذکر پہلے کیا جا چکا ہے چند ایک کا ذکر اب کیا جائے گا۔عبادت۔معاشرتی وحدت کا ایک ذریعہ (۱) شروع ہی میں یہ اقرار کہ خدا ایک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے خالق اور مخلوق میں وحدت کے رشتہ کو قائم کرتا ہے اور خالق کا ایک ہونا مخلوق میں وحدت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔(۲) روزانہ پانچ وقت کی نماز با جماعت وحدت پیدا کرنے کا شاید مؤثر ترین ذریعہ ہے۔امیر اور غریب، چھوٹے اور بڑے بلا استثناء سب کو مسجد میں نماز ادا کرنے کا حکم ہے۔اگر چہ سب کے لئے مساجد تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا تاہم مسلم معاشرہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جو مسجد تک پہنچ سکتی ہے ان پر اس حکم کی پابندی کرنا فرض ہے۔باقاعدہ پانچ نمازیں روزانہ باجماعت ادا کرنے والوں کی تعداد مختلف ممالک میں کم و بیش ہو سکتی ہے۔تاہم مسلمانوں کی اکثریت کو مساجد میں آ کر نمازیں ادا کرنے کا موقع ضرور ملتا ہے۔نماز کا یہ نظام بذات خود مساوات انسانی کا ایک عظیم پیغام ہے۔مسجد میں پہلے پہنچنے والا جہاں چاہے بیٹھے اور بعد میں آنے والا کوئی شخص خواہ وہ معاشرہ میں کتنا ہی بلند مرتبہ کیوں نہ ہو پہلے آنے والے کو اس کی جگہ سے اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔نماز کے وقت تمام لوگ کندھے سے کندھا 245