اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 203
مشرقی یورپ اور روس میں ہونے والی تبدیلیاں دنیا کے اقتصادی توازن پر کس طرح اثر انداز ہوں گی، اس کے متعلق کوئی پیشگوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔ابھی تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ان ممالک کی سرمایہ دارانہ نظام کی طرف کبھی واپسی ہوگی بھی یا نہیں علاوہ ازیں ان تبدیلیوں کی رفتار کا تعین بھی قبل از وقت ہو گا۔مستقبل کے امکانات جو بھی ہوں یہ بات یقینی ہے کہ یہ تبدیلیاں تیسری دنیا کے ممالک کی اقتصادیات پر منفی اثرات مرتب کریں گی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ صورت حال ہمیشہ ایسی نہیں رہے گی بلکہ سنگین سے سنگین تر ہوتی چلی جائے گی۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا ایک عالمی تباہی کے راستہ پر چل نکلی ہے۔اسلام سود کی کھوکھلی بنیادوں پر قائم سرمایہ دارانہ ممالک کو جو آج خوشی سے پھولے نہیں سماتے متنبہ کرتا ہے کہ وہ بالآخر لازماً تباہ و برباد ہو جائیں گے۔سرمایہ دارانہ نظام کی سوشلزم پر حالیہ نام نہاد فتح انہیں ایک وقتی اور عارضی امن ہی دے سکتی ہے۔خود سرمایہ دارانہ نظام کے فلسفہ سے ایسی طاقتور بلائیں جنم لیں گی جو سوشلزم کو اپنے مدمقابل نہ پا کر بڑھتے بڑھتے بے حد ہیبت ناک صورت اختیار کر لیں گی۔سرمایہ دارانہ نظام کا آتش فشاں پہاڑ بالآ خر اتنی قوت سے پھٹے گا کہ ساری دنیا اس کے زلزلہ سے تہ و بالا ہو کر رہ جائے گی۔اسلام کا اقتصادی نظام اسلام کے پیش کردہ سماجی نظام کی طرح اسلام کے اقتصادی نظام کی ابتداء بھی اسی بنیادی حقیقت سے ہوتی ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا پیدا کردہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو جو بہت سی نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ بطور امانت کے ہیں۔انسان بحیثیت امین اس امر کا جوابدہ ہے کہ کیا اس نے امانت 203