اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 9

کے خلاف جنگ میں شامل ہو جاتے ہیں اور اس طرح اقلیت کے مذہب کی تصویر کو اور بھی زیادہ بگاڑ کر پیش کرتے ہیں اور صورت حال پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی چلی جاتی ہے۔اس تمام جھگڑے اور فساد میں بلاشبہ پہلا شکار خود مذہب ہوتا ہے۔مذہب کی دنیا میں آج جو کچھ ہو رہا ہے میں فی الحقیقت اس کے بارہ میں بہت پریشان اور فکر مند ہوں۔آج اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ مذاہب کے مابین پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے ٹھوس اور سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اسلام ہی سب سے زیادہ احسن رنگ میں اور ہماری ضرورتوں کے عین مطابق یہ کام سر انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔میں نے اس مضمون کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ بات زیادہ آسان اور قابل فہم ہو جائے۔مثلاً ایک ایسے مذہب کے لئے جو عالمی امن کے قیام میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے (اور جس میں عالمی سطح پر بنی نوع انسان کو متحد کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے ) ضروری ہے کہ وہ پہلے خود مذہب کی آفاقیت پر یقین رکھتا ہو۔مذہب کی آفاقیت سے مراد یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان ایک خدا کی مخلوق ہیں خواہ وہ کسی بھی رنگ ونسل سے تعلق رکھتے ہوں یا دنیا کے کسی بھی خطے میں آباد ہوں۔چونکہ ان کا خدا ایک ہے اس لئے وہ سب اس بات میں برابر کے حقدار ہیں کہ انہیں آسمانی ہدایت سے نوازا جائے۔اگر خدا تعالیٰ نے کبھی کسی ایک قوم کی طرف وحی نازل فرمائی ہے تو پھر ایک عالمگیر مذہب کو تسلیم کرنا چاہئے کہ جہاں تک حق کا سوال ہے وحی الہی ہر قوم میں نازل ہو سکتی ہے۔اب دیکھئے یہ نظریہ سچائی پر کسی ایک مذہب کی اجارہ داری کے تصور کو کس طرح یکسر مٹا دیتا ہے۔تمام مذاہب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ دعویٰ کریں کہ ہمارے پاس کوئی آسمانی صداقت ہے۔ان مذاہب کے نام اور عقائد خواہ کچھ بھی ہوں