اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 8

پیدا ہو رہی ہے۔جن معجزات کی توقع وہ لگائے بیٹھے ہیں وہ پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔وہ چاہتے ہیں کہ واقعات عالم کسی مافوق الفطرت طاقت کے ذریعہ ان کی مرضی کے مطابق تبدیل ہو جائیں۔مگر ایسا عجیب و غریب عمل حقیقت کی دنیا میں انہیں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔وہ عجیب و غریب پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں تا کہ ان کا اعتقاد بڑھے مگر ان کی کوئی خواہش حقیقت کا روپ دھارتی نظر نہیں آتی۔یہی وہ لوگ ہیں جو نت نئے مذہبی گروہوں (Cults) کے قیام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ان کی مایوسیاں ایسے گروہوں کی نشوونما کے لئے بڑی سودمند ہوتی ہیں۔دراصل نئی چیز کی تلاش اس خلا کو پر کرنے کے لئے ہوا کرتی ہے جو ماضی سے فرار کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ان ہلاکت خیز رجحانات کے علاوہ عالمی امن کے لئے بھی کٹر مذہبی عقائد کا از سرنو احیاء ایک خطرہ بنا ہوا ہے۔ایسے کڑر عقائد کے باعث فضا زہر آلود ہو جاتی ہے جو نظریات کی اشاعت اور ان پر آزادانہ بحث کے لئے بہت مہلک ثابت ہوتی ہے۔دوسرے یہ کہ بدعنوان سیاست دان ایسی دھما کہ خیز صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھانے پر ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں۔مختلف مذاہب کے مابین صدیوں سے جاری جھگڑے اور اختلاف بھی اس آگ کو مزید بھڑکاتے ہیں۔مذہب کے نام پر ہونے والے اس تمام فساد سے خود مذہب کا حسن داغدار ہوتا چلا جا رہا ہے۔عالمی ذرائع ابلاغ کا بھی اس میں ایک کردار ہے۔عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ ذرائع ابلاغ آزاد ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔دراصل ان کا کنٹرول پس پردہ کام کرنے والے بعض ہاتھوں میں ہے اس لئے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ دنیا کے معاملات میں یہ ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ کردار ادا کرتے ہیں۔ایک ملک جہاں کی بھاری اکثریت ایک مذہب کے ماننے والوں کی ہو وہاں کے ذرائع ابلاغ دوسرے مذہب 00