اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 7

مذہبی اقدار کو فضول اور غیر ضروری سمجھ لیا گیا ہے آج کی مذہبی دنیا ایک عجیب تضاد کا شکار ہو چکی ہے۔ایک طرف تو بالعموم مذہب سے بیگانگی بڑھ رہی ہے مگر دوسری طرف بعض پہلوؤں سے مذہب کی گرفت مضبوط ہوتی چلی جا رہی ہے۔لوگوں کے دل و دماغ اور عملی زندگی پر مذہب کا حقیقی اثر کمزور پڑرہا ہے لیکن کٹر مذہبی عقائد کو از سر نو اختیار کیا جا رہا ہے۔رواداری کا فقدان ہے اور مذہبی تشدد پسندی عام ہو رہی ہے۔دوسری طرف اگر دنیا کے عام اخلاقی معیار کو دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ مذہب پسپا ہو رہا ہے۔جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔صداقت دنیا سے اٹھتی جا رہی ہے۔عدل و انصاف نا پید ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔فرد معاشرہ کی طرف سے عائد ذمہ داریوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔خود غرضی پر مبنی انفرادیت پسندی زور پکڑتی جا رہی ہے۔یہ معاشرتی برائیاں ان ممالک میں بھی عام ہیں جو مذہبی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔یہ اور ایسی دیگر بہت سی برائیاں اس اخلاقی انحطاط کی مظہر ہیں جواب دنیا کے نظام کا حصہ بن چکی ہیں۔اگر اخلاقی اقدار ہی مذہب کی جان ہیں تو ان اقدار کے رفتہ رفتہ اٹھ جانے کا ناگزیر نتیجہ یہی ہے کہ مذہب کے ظاہری ڈھانچے اور جسم کی تعمیر نو تو ہو رہی ہے مگر روح اس جسم سے پرواز کر چکی ہے۔پس حقیقت یہی ہے کہ مذہب کا یہ نام نہاد احیاء اپنے ندر حقیقی زندگی کی کوئی علامت نہیں رکھتا۔یہ تو ایسے ہی ہے جیسے جنوبی افریقہ کے بعض قبائل میں جادو کے زور سے لاش کو چلتا پھرتا دکھائے جانے کا تصور پایا جاتا اندر ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بعض جگہ طویل جمود کے باعث اور کسی ولولہ انگیز ترقی کے نہ ہونے کی وجہ سے مذہب کی طرف مائل لوگوں میں ایک قسم کی بوریت اور اکتاہٹ 7