اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 163
میں ہے۔اسلام ارباب حل و عقد اور اہل ثروت کو تاکید کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔کمزور طبقات اور غرباء کے بنیادی معاشی حقوق کبھی تلف نہ ہونے دیں۔پیشہ کے انتخاب کی آزادی یکساں مواقع اور بنیادی ضروریات زندگی ان کے بنیادی حقوق ہیں جو انہیں ملنے چاہئیں۔اس سوچ اور فکر کے فقدان سے انسانوں نے زندگی کی جدوجہد میں بڑے دکھ اٹھائے ہیں اور تاریخ انسانی میں فتنہ وفساد کے بے شمار سیاہ باب رقم ہوئے ہیں۔معاشرہ کو ایسے دکھوں سے محفوظ رکھنے کی خاطر اسلام نے جو تعلیم دی ہے اس میں لینے اور سمیٹنے سے زیادہ دینے پر زور دیا گیا ہے۔اہل اقتدار اور صاحب ثروت لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ہمیشہ اس بات کی نگرانی کرتے رہیں کہ معاشرہ کا کوئی طبقہ بنیادی انسانی حقوق سے اس حد تک محروم نہ ہو کہ مناسب اور باعزت زندگی بھی نہ گزار سکے۔ایک حقیقی اسلامی ریاست کا فرض ہے کہ عوام کی بنیادی ضروریات کا پورا احساس رکھے اور ان کی فراہمی کے لئے مناسب اقدامات کرے۔اس سے پہلے کہ لوگوں کے سینوں میں دبے ہوئے دکھ دکھائی دینے لگیں، خاموش غم فریاد کرنے لگیں اور انسانوں کی ضروریات نظام اور معاشرہ کے امن کے لئے خطرہ بن جائیں وہ ضرورتیں پوری ہونی چاہئیں اور ان غموں اور دکھوں کی وجوہات دور ہونی چاہئیں۔بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرنے کے لحاظ سے یہاں بظاہر اسلام اور سوشلزم میں ایک گونہ مشابہت نظر آتی ہے لیکن در حقیقت یہ ایک سطحی مشابہت ہے۔فرق یہ ہے کہ اسلام اپنے مقاصد کے حصول کے لئے وہ جبری ذرائع استعمال نہیں کرتا جو سائنٹفک سوشلزم نے تجویز کئے ہیں۔اس مختصر وقت میں میں تفصیل سے تو یہ بیان نہیں کر سکتا کہ اسلام کس طرح اس عظیم منزل کے حصول کو ممکن بنا تا ہے لیکن مختصراً اتنا کہوں گا کہ اسلام جبری مادیت کے فلسفہ کی طرح اس مسئلہ کو ایک بے جان اور 163