احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 67
جہانگیر پارک میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی تقریر پر اعتراض اس فیصلہ کے صفحہ 46 پر لکھا ہے: "Ahmadis announced to hold a public meeting at Karachi۔Mr۔Zafarullah was the main speaker۔The Prime Minister Khawaja Nazimuddin expressed his disapproval of the Zafarrullah's attending such gathering۔But Mr۔Zafarullah was so committed that he told the Prime Minister that he would either resign or attend the meeting۔Sir Zafarullah's controvercial speech resulted in eruption of demonstrations in Punjab and Karachi and intensified the anti-Qadiani movement۔" ترجمہ: احمدیوں نے کراچی میں ایک عام جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔مسٹر ظفر اللہ اس کے اہم مقرر تھے۔وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے اس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ ظفر اللہ ایسے اجلاس میں شرکت کریں لیکن مسٹر ظفر اللہ اس بارے میں اتنے پر عزم تھے کہ انہوں نے وزیر اعظم کو کہا کہ یا وہ اس عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے یا اس جلسہ میں شرکت کریں گے۔سر ظفر اللہ کی متنازعہ تقریر کے نتیجہ میں پنجاب اور کراچی میں مظاہرے شروع ہو گئے اور قادیانیت کے خلاف مہم اور تیز ہوگئی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم اور جسٹس شوکت عزیز صاحب کے نزدیک یہ بات قابل اعتراض تھی کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ایک حکومتی عہد یدار ہوتے ہوئے بھی ایک فرقہ کے جلسہ میں تقریر کریں۔یقینی طور پر ہر ایک شخص کو اپنی رائے قائم کرنے کا حق ہے لیکن اُس وقت جو حالات تھے ان کی چند جھلکیاں پیش ہیں۔67