احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 68 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 68

سب سے پہلے تو یہ بات قابل ذکر ہے کہ تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کے مطابق چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی یہ تقریر ایک عالمگیر مذہب کی حیثیت سے اسلام کی برتری پر تھی۔“ اسلام کی فضیلت پر اس تقریر کے صرف چند فقروں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر تھا۔اس کے برعکس مولوی شبیر احمد عثمانی صاحب نے جو کہ مسلم لیگ کی طرف سے مرکزی اسمبلی کے ممبر تھے اپنی ایک کتاب شہاب کو شائع کرنے کی اجازت دی اور اس میں احمدیوں کو واجب القتل قرار دیا گیا تھا اور احمدیوں کے خلاف شورش بر پا کرنے والوں نے جلسوں میں سب کو اس کتاب کو پڑھنے کا مشورہ دیا اور اس اشاعت کے بعد احمدیوں کے قتل کی وارداتیں شروع بھی ہوئیں۔مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے اس کتاب پر پابندی نہیں لگائی۔جب احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیز جلسے شروع ہوئے تو بعض مقامات پر خود ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ایسے جلسوں کی صدارت کی اور ان جلسوں میں احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیئے گئے لیکن حکومت نے ان افسران کو اُن کے عہدوں سے برطرف نہیں کیا۔خود پنجاب کے وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ صاحب نے حضوری باغ میں جلسہ عام سے تقریر کرتے ہوئے احمدیوں کے خلاف خوب زہر فشانی کی اور کہا کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں تسلیم کرتا وہ غیر مسلم ہے اور اس معاملہ میں بحث کرنا بھی کفر ہے۔احمدیوں کے خلاف چلنے والی نفرت انگیز تحریک کے ذمہ دار خود احمدی ہیں اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی راہ میں ایک مسئلہ یہ حائل ہے کہ اس صورت میں احمدیوں کو وہ حقوق دینے پڑیں گے جو وہ احمدیوں کو نہیں دینا چاہتے۔اور خود حکمران مسلم لیگ کے عہدیدار جماعت احمدیہ کے خلاف جلسے اور جلوس کر رہے تھے۔پنجاب کی مسلم لیگ کی کونسل نے یہ 68