احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 273
بیان ہوئی ہے اس کے راویوں میں پہلے راوی ابو شرحبیل عیسی بن خالد مجہول الحال ہیں یعنی ماہرین کے نزدیک ان کے حالات ہی معلوم نہیں کہ ان کی روایت پر اعتبار کیا جا سکتا ہے کہ نہیں اور اس روایت کے مطابق انہوں نے اسماعیل بن عیاش سے روایت کی ہے۔گو بعض نے انہیں ثقہ بھی قرار دیا ہے لیکن کئی آئمہ نے ان کی روایت کو نا قابل اعتبار شمار کیا ہے۔ان کو امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے لکھا ہے کہ یہا کثر غلطی کر جاتے تھے۔ابو حاتم نے انہیں ”لین قرار دیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ یہ راوی پوری طرح ساقط نہیں ہے لیکن اس میں کچھ قابل اعتراض باتیں ایسی پائی گئی ہیں جن کی بنا پر وہ پوری طرح عادل نہیں قرار دیا جا سکتا۔میزان الاعتدال نقد الرجال المؤلف محمد بن أحمد بن عثمان بن قايماز الذي شمس الدين ابو عبد اللہ جلد اول ص 240 تا 244) (احکام اهل ذمته، تالیف ابن قیم الجوزیہ، الجزء اول، ناشر دار الكتب العلمیہ بیروت ص 113 114 ) احکام اہل ذمہ میں اسماعیل بن عیاش کے بعد یہ لکھا ہی نہیں ہوا کہ انہوں نے یہ روایت کس سے سنی تھی؟ اس مجموعی صورت حال اور خاص طور پر روایت کے باقی روایات کے مسلمان ذخیرے سے اختلاف ہمیں اسی نتیجہ پر لے جاتا ہے کہ اس روایت کو غلط اور جعلی شمار کیا جائے۔محققین اور مصنفین تو ایک طرف رہے خود مغربی مصنفین نے بھی اقرار کیا ہے کہ وہ روایات جن میں یہ معاہدہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے درست نہیں ہیں۔ان میں سے ایک محقق Tritton۔A۔S اپنی کتاب The Caliphs and their non-Muslim Subjects میں ' شروط عمر یہ پر اپنی تحقیق پیش کرتے ہیں۔ان کے مطابق یہ بات ہی اس کو عجیب بنادیتی ہے کہ اسے لکھا ہی شام کے مسیحیوں نے تھا اور اپنے اوپر خود ہی یہ سخت پابندیاں لگا دی تھیں جبکہ بالعموم فاتح افواج شرائط لکھتی ہیں۔دوسری بات جو اسے غلط ظاہر کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں لکھا ہی نہیں کہ یہ معاہدہ کس شہر 273