احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 274 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 274

کے لوگوں سے ہوا تھا۔اگر شام کے لوگوں سے ہوا تھا تو حضرت خالد بن ولید نے دمشق کے لوگوں سے بالکل مختلف بلکہ ان شرائط سے متضاد شرائط پر معاہدہ کیا تھا۔شام کے اس شہر سے جس کا نام بھی معلوم نہیں ، آخر اتنی سخت شرائط پر کیوں معاہدہ ہوا اور وہ بھی اس فرضی شہر کے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کا لکھا ہوا جبکہ شام ہی کے دوسرے شہروں سے بالکل اور شرائط پر معاہدات کئے گئے۔یہ تمام حقائق یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس معاہدے کا منسوب کرنا درست نہیں۔وہ اپنی کتاب کے آخر میں یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اسلام کی پہلی صدی میں جب یہ ” فرضی معاہدہ ہوا تھا اسے نظر انداز کر دیا گیا اور اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا اور مسلمان جرنیلوں نے جو معاہدے کئے وہ ان شرائط کے مطابق نہیں تھے اور 200 سال کے بعد اس کے بعض خدو خال نظر آنے شروع ہوتے ہیں۔ان کی کتاب کا آخری فقرہ یہ ہے: "The covenant was drawn up in the schools of law, and came to be ascribed, like so much else, to Umar I" ترجمہ: اس معاہدے کو فقہ کے مدرسوں میں تیار کیا گیا اور بہت سی دوسری چیزوں کی طرح عمر اوّل کی طرف منسوب کر دیا گیا۔(THE CALIPHS AND THEIR NON-MUSLIM SUBJECTS-A Critical Study of the Covenant of 'Umar-By A۔S۔Tritton, published by HUMPHREY OXFORD MILFORD UNIVERSITY LONDON BOMBAY CALCUTTA MADRAS 1930, p 5-18,233) کیا یہ شرم کا مقام نہیں کہ جب اس جیسی ضعیف اور بے اصل روایت سامنے آتی ہے 274 PRESS