احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 164 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 164

نام نہاد جہاد تھا۔جو انتباہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے 1986ء میں فرمایا تھا، ساری دنیا اس کی صداقت ملاحظہ کر رہی ہے۔اب جبکہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کی سرزمین ان فتاوی کی وجہ سے خون سے رنگ دی گئی ہے، ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس مرحلہ پر ایک عدالتی فیصلہ میں اس مسئلہ کی آگ کو کیوں بھڑ کانے کی کوشش کی جارہی ہے۔؟ اسلم قریشی صاحب کا اغواء،شہادت اور پھر دوبارہ زندہ ہو جانا قبل ازیں اُس مرحلہ کا ذکر ہو چکا ہے جب 1984ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف جماعت احمدیہ کے مخالفین نے مہم چلانی شروع کی تھی۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے صفحہ 76 پر اختصار سے جماعت احمدیہ کے خلاف اس تحریک کے شروع ہونے کا ذکر ہے۔اور یہ بھی ذکر ہے کہ اس تحریک کے آٹھ مطالبات تھے۔گزشتہ صفحات میں ان میں سے ایک اہم مطالبہ یعنی مرتد کے لئے سزائے موت مقرر کرنے کا ذکر ہو چکا ہے۔جنہوں نے فیصلہ پڑھا ہے ان میں سے کئی احباب ان میں سے پانچویں مطالبے کو سمجھ نہیں سکے ہوں گے اور انہوں نے محسوس کیا ہو گا کہ اس عدالتی فیصلہ میں گو کہ بہت سی تفصیلات درج ہیں لیکن اس مطالبے کے متعلق کچھ وضاحت نہیں کی گئی کہ اس سے کیا مراد تھی ؟ اس فیصلہ سے اس مطالبہ کی عبارت درج کی جاتی ہے: "Arrest of Mirza Tahir Ahmad and some of his colleagues in connection with the disappearance of Maulana Aslam Qureshi and immediate recovery of Maulana Qureshi۔" (page 76) ترجمہ: مرزا طاہر احمد اور ان کے کچھ ساتھیوں کو مولانا اسلم قریشی کے غائب ہونے کے سلسلے 164