احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 165 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 165

میں گرفتار کیا جائے اور مولا نا قریشی کو فوراً برآمد کرایا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ اہم مطالبہ تھا جس کی وجہ سے یہ تحریک شروع کی گئی تھی اور آخر میں جنرل ضیاء صاحب نے مخالفین جماعت کے مطالبات کے مطابق جماعت احمدیہ پر مختلف قسم کی پابندیاں لگانے کے لئے ایک آرڈینس نافذ کیا تھا اور اسی مطالبہ کی وجہ سے پورے ملک میں ایک سال سے زائد عرصہ ایک ہیجان کی کیفیت رہی تھی اور کیا عام شہری اور کیا صدر مملکت سب تشویش کا شکار رہے تھے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ کی کچھ تفصیلات پڑھنے والوں کے سامنے رکھی جائیں تا کہ انہیں یہ اندازہ ہو سکے کہ جماعت احمدیہ کے خلاف چلنے والی شورشوں کو کس طرح پروان چڑھایا جاتا ہے؟ بلکہ مناسب ہوگا کہ کم از کم پاکستان میں ان واقعات کو قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سول سروس اپنے نصاب میں شامل کر لیں تا کہ جو افراد وہاں سے تربیت حاصل کر کے نکلیں انہیں یہ تو علم ہو کہ علماء کا طبقہ جب کوئی ملک گیر مہم چلانے کے لئے نکلتا ہے تو اس کی منصوبہ بندی کس طرح کی جاتی ہے؟ اور اس شورش کو کس طرح پروان چڑھایا جاتا ہے۔اگر وہ ان واقعات کا مطالعہ کریں گے تو وہ بہتر سمجھ سکیں گے کہ ان سے نمٹنا کس طرح ہے؟ اسلم قریشی صاحب کا پہلا قا تلانہ حملہ سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ ”مولانا اسلم قریشی کون تھے؟ اور کس طرح پہلی مرتبہ منظر عام پر آئے تھے؟ 1971ء میں حضرت مسیح موعود کے پوتے اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے صاحبزادے مکرم صاحبزادہ مرز امظفر احمد صاحب ملک کی مرکزی کابینہ میں صدر کے 165